افواہوں کی تردید : جواب میں مزید ہفتہ لگ سکتا : عرفان صدیقی : 7دن میں جوڈیشل کمشن ورنہ چوتھی میٹنگ ختم : بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے+ نوائے وقت رپورٹ) حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے کنوینر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ ذرائع کے حوالے سے میڈیا میں آنے والی اس خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ حکومتی کمیٹی نے پی ٹی آئی کے چارٹر آف ڈیمانڈز کے جواب میں اپنا موقف تیا ر کرلیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں عرفان صدیقی نے کہا کہ یہ خبر اور اس میں بیان کی گئی تمام تفصیلات بے بنیاد ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت حکومتی کمیٹی میں شامل سات جماعتیں باہمی مشاورت اور اپنی اپنی قیادت سے راہنمائی حاصل کرنے کے عمل میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حتمی جواب تیار کرنے میں ایک ہفتہ مزید لگ سکتا ہے۔ اس سے قبل عرفان صدیقی کے اس بیان سے کچھ دیر قبل ہی یہ خبر سامنے آئی تھی کہ حکومت نے تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی کے مطالبات پر جواب تیار کرتے ہوئے 9 مئی 2023ء سے متعلق واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمشن بنانے کا پی ٹی آئی کا مطالبہ مسترد کردیا۔ دوسری جانب چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر کے مطابق عمران خان نے کہا ہے 7 دن میں کمشن نہ بنا تو چوتھی میٹنگ نہیں ہوگی۔ اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عرفان صدیقی حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان ہیں، ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ مذاکرات کو تعطل کا شکار کریں، ہماری جو ملاقات ہوئی وہ امن وامان کی صورتحال پر ہوئی ہے اور اس ملاقات کا مسئلہ نہیں کھڑا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں مگر ہماری شرط ہے کہ جوڈیشل کمشن بنایا جائے، عمران خان نے کہا ہے 7 دن میں کمشن نہ بنا تو چوتھی میٹنگ نہیں ہوگی، ہم حکومت کا انتظار کررہے ہیں وہ کیا پیشرفت بتاتے ہیں، اگر کمشن نہیں بننے جا رہا تو مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں مذاکرات کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹرگوہر علی خان، اسد قیصر، زرتاج گل وزیر نے دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ القادر ٹرسٹ کیس کی سزا کے خلاف ہم اعلی عدلیہ میں جائیں گے۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کا کیس نہیں ہے۔کمشن تو ہر جگہ اور وقوعے کا بن سکتا ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کے پاس سات دن کا وقت ہے۔ عمر ایوب نے کہا کہ القادر ٹرسٹ کیس کے حوالے سے جھوٹ کا پلندہ بنایا ہوا ہے۔ القادر ٹرسٹ کیس کی سزا کے خلاف ہم اعلی عدلیہ میں جائیں گے۔ اسد قیصر نے کہا کہ کل پی ٹی آئی بانی اور ان کی اہلیہ کے خلاف فیصلہ کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جا رہے ہیں۔ افغانستان سے دوستانہ تعلقات بہتر کرنے ہوں گے۔ اپوزیشن الائنس قائم کرنے جا رہے ہیں۔ زرتاج گل وزیر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو جھکانے کے لیے بشریٰ بی بی کو سزا دی گئی۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اﷲ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات میں ڈیڈ لاک نہیں۔ پی ٹی آئی کے مطالبات پر غور ہو رہا ہے۔ حکومتی کمیٹی سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ قابل قبول راستہ نکالے گی۔ پی ٹی آئی نے 26 ویں ترمیم میں ساتھ دیا تھا۔ 9 مئی کے کیس منطقی انجام تک پہنچ رہے ہں۔ 26 نومبر معاملے کی بتدائی تحقیقات چل رہی ہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے انہوں نے کہا کہ جولائی 2023ء میں پی ٹی آئی پر پابندی کی بات حالات کے مطابق کی تھی۔ اب مثبت بات چیت چل رہی ہے، کامیاب ہونی چاہئے۔ پی ٹی آئی کے رویئے میں مثبت تبدیلی دیکھی ہے۔ علی امین گنڈاپور نے میٹنگز میں مثبت رویئے سے بات کی۔ ایک سوال پر کہا کہ پی ایم ہاؤس سے ریکور دستاویز میں شہزاد اکبر نے کہا کہ کرپشن کی رقم 190 ملین پاونڈ ریکور کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: عرفان صدیقی بیرسٹر گوہر پی ٹی ا ئی پی ٹی آئی کہا ہے کہ نے کہا ہے نے کہا کہ کہ حکومت کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔