کندھکوٹ: ووٹ کے اندراج، منتقلی اور درستگی کی اہمیت کے حوالے سے سیمینار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2025 GMT
کندھکوٹ (نمائندہ جسارت) ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن نے ضلع کے تعلیمی اداروں میں ووٹ کے اندراج، منتقلی اور درستگی کی اہمیت کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد کیا۔ ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کشمور ستار سردار نے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول میں ’’ووٹ کی اہمیت‘‘ پر لیکچر دیا اور پروگرام میں معزز شرکاء نے ووٹ کی اہمیت کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہر وہ شہری جس کی عمر 18 سال سے زائد ہو اور اس کے پاس قومی شناختی کارڈ ہو ووٹ ڈالنے کا اہل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خواتین ووٹرز کی تعداد مرد ووٹرز سے کم ہے، ووٹ کی رجسٹریشن میں مکمل تعاون کریں، اپنے والدین اور خاندان کے دیگر افراد کی ووٹر رجسٹریشن چیک کریں، اگر ان کا ووٹ رجسٹرڈ نہیں ہے تو اپنے ووٹ کا اندراج کرائیں اور شفاف انتخابات کے انعقاد میں الیکشن کمیشن کے ساتھ تعاون کریں۔ ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر نے شرکاء، طلباء کو الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری، ووٹ کی اہمیت، ووٹ کے اندراج، منتقلی اور درستگی کے بارے میں آگاہ کیا اور سیاسی عمل، نوجوانوں کے کردار اور ذمہ داری پر خصوصی زور دیا۔ الیکشن کمشنر کشمور نے اپنے لیکچر کے اختتام پر طلباء کے سوالات کے جوابات دیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔