ملک بھر میں شب معراج انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2025 GMT
کراچی:
پاکستان بھر میں ماہ رجب کی عظیم رات شب معراج انتہائی مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔
ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں، دیہاتوں اور قصبوں میں شب معراج کے حوالے سے مساجد پر چراغاں کیا گیا، اور واقعہ شب معراج کے روح پرور اجتماعات منعقد کیے گئے۔
جماعت اہلسنّت پاکستان کے تحت ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی 27 ویں شب رجب المرجب جشن معراج مصطفی انہایت عقیدت و احترام اور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا۔
شہر بھرکی مساجد میں شب معراج النبی کے روح پرور اجتماعات میں علمائے کرام نے رحمۃ اللعالمین کے عظیم معجزہ معراج شریف کے واقعات و فضائل بیان کئے۔
مساجد میں محافل میلاد، ختم دورود شریف، نوافل، صلوۃ التسبیح، قصیدہ بردہ، معراجیہ شریف اور خصوصی دعاؤں کااہتمام کیا گیا۔
معراج النبی کے مرکزی اجتماع سے میمن مسجد مصلح الدین گارڈن جوڑیا بازار میں جما عت اہلسنّت کراچی کے امیر علامہ شاہ عبد الحق قادری نے خطاب کرتے کہا کہ واقعہ معراج محسن انسانیت کی عظمت و رفعت کا شاہکا ر ہے۔ سفرِ معراج کو حضو ر خاتم النبیاء کے تمام معجزوں پر امتیازی حیثیت حاصل ہے۔
شب معراج حضورنے اپنی آنکھوں سے اللہ کا دیدار کیا اور رحمت عالم کو جتنے بھی معجزے عطا کئے گئے ان میں معجزہ معراج سب سے بڑا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ رب العالمین نے اپنے حبیب کو قلیل وقت میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ، سات آسمانوں اور جنت کی سیر کرائی، رسا لت مآب مسجد اقصیٰ میں انبیا ء و رسل کی امامت فرما کر امام الانبیا ہ کے مرتبے سے نوازے گئے۔
باری تعالی نے شب معراج میں امت مسلمہ کو عظیم تحفہ نماز پنچگانہ عطا فرمایا۔ انہوں نے معجزہ معراج بیان کر تے ہوئے عوام الناس سے اسوہ حسنہ کو اپنانے پر زور دیا۔
نیز شہر کراچی کے دیگر مقامات پر معراج النبی کی محا فل سے ڈاکٹرسید عبد الوہاب قادری، علامہ سید عبد القادر شاہ شیرازی، مولانا الطاف قادری، علامہ کامران رضوی، مولانا سید عبد الحق سیفی، مفتی بلال قادری، مولانا فخر الحسن، مولانا جمیل امینی، مفتی عتیق قادری، مفتی شوکت علی خان، مولاناعباس رضا الباروی، میر غالب شاہ، مولاناعاشق سعیدی، مفتی فیاض قادری،علامہ فرحان شیخ، مفتی احمر حشمتی، علامہ فیصل رشید نے کہا کہ حضو رﷺ کا اعزاز ہے کہ شب معراج میں تمام انبیا ء کرام کی قبلہ اؤل بیت المقدس میں امامت فرمائی۔
شب معراج رحمت عالم کو جتنے بھی معجزے عطا کئے گئے ان میں معجزہ معراج سب سے بڑا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
حاصل مطالعہ
عبدالرحیم
ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭