غزہ نے اسرائیل کو گھٹنوں کے بل گرادیا‘ ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2025 GMT
تہران(صباح نیوز)ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کی جدوجہد نے اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔غیرملکی خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق تہران میں سرکاری عہدیداروں سے ملاقات کے دوران سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ چھوٹے اور محدود غزہ نے ایسی صہیونی حکومت کوگھٹنوں کے بل گرنے پر مجبور کردیا، جو جدید اسلحے سے لیس اور
امریکا کی مکمل حمایت حاصل تھی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے شہریوں کو مصر اور اردن یا کسی دوسرے مقام پر منتقل کرنے کی تجویز پرشدید تنقید کی۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ سیاسی جبر اور جغرافیائی مداخلت فلسطینیوں کو اپنی سرزمین چھوڑنے پر مجبور نہیں کرسکتی ہے کیونکہ غزہ فلسطینیوں کا ہے، ان کی مادر وطن ہے اور وہاں رہنے کے لیے انہوں نے بھاری قیمت چکائی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔