مجھے افسوس ہے کل سینیٹ کا الیکشن ہو رہا ہے، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ مجھے افسوس ہے کل سینیٹ کا الیکشن ہو رہا ہے، ہم نے سینیٹ کا الیکشن رکوانے کیلئے درخواست بھی دی تھی۔
اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آئینی بینچ کے سامنے شبلی فراز کی درخواست پر سماعت تھی، ہم نے الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہلی کےنوٹیفکیشن کو چیلنج کیا تھا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ میں سماعت ملتوی ہوئی تھی آج سپریم کورٹ نےکالعدم قرار دے دیا، ہائیکورٹ کو ڈائریکشن جاری کی گئی کہ دونوں فریقین کو سن کر فیصلہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ عدالت نے کہا ہم مزید پیچیدگیوں میں نہیں جانا چاہتے، عدالت نے کہا اور بھی بہت سارے لوگوں کے نااہلی کے معاملات اس سے منسلک ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امید ہے ہائیکورٹ میں کیس چلے گا تو ہمیں ریلیف ملے گا، الیکشن کمیشن کے پاس اختیار نہیں کہ چیئرمین سینیٹ کے ریفرنس کے بغیر کسی کو نااہل کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر نے کہا
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔