مریم نواز نے خیبر پختونخوا حکومت کے منصوبے کاپی کیے کچھ نیا نہیں، بیرسٹر ڈاکٹر سیف
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
خیبر پختونخوا کے ترجمان بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت کے فلاحی منصوبوں کو کامیابی سے کاپی پیسٹ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے حال ہی میں آئمہ مساجد کے لیے وظیفے کا اعلان کیا، جو پروگرام خیبر پختونخوا حکومت نے قریباً 10 برس قبل متعارف کرایا تھا۔
مزید پڑھیں: افغانستان سے مذاکرات میں خیبر پختونخوا کی نمائندگی ناگزیر ہے، بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف
ڈاکٹر سیف کے مطابق، مریم نواز کو خیبر پختونخوا کے منصوبے نقل کرنے میں ہی عافیت نظر آتی ہے، مگر ایسے منصوبوں کے لیے خیبر پختونخوا جیسی مخلص قیادت بھی ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں منصوبے عوامی فلاح کے بجائے کمیشن کی بنیاد پر شروع اور ختم ہو جاتے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا حکومت نے صحت کارڈ کے تحت 17 لاکھ سے زائد مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا اور 57 ارب روپے سے زیادہ عوام کی صحت پر خرچ کیے۔
بیرسٹر سیف نے مریم نواز کو مشورہ دیا کہ وہ ٹک ٹاک سے باہر نکل کر خیبر پختونخوا کی طرح عملی اقدامات کریں، محض تشہیر سے ترقی ممکن نہیں۔
مزید پڑھیں: بلاول تقریریں کرنے کے بجائے ابو سے پوچھ لیں کہ نہروں کی منظوری کیوں دی؟ بیرسٹر ڈاکٹر سیف
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت اگر چاہے تو ہم صحت کارڈ پروگرام کے نفاذ میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔
ڈاکٹر سیف نے شریف خاندان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے فروری 2024 میں شریف خاندان کو مسترد کیا، مگر انہوں نے فارم 47 کا سہارا لیا۔ دہائیوں سے قومی خزانہ لوٹا جا رہا ہے، مگر ان کا پیٹ بھرتا نہیں۔ چچا وفاق میں اور بھتیجی صوبے میں خزانے پر سانپ بن کر بیٹھے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئمہ مساجد بیرسٹر ڈاکٹر سیف خیبر پختونخوا حکومت وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بیرسٹر ڈاکٹر سیف خیبر پختونخوا حکومت وزیراعلی پنجاب مریم نواز خیبر پختونخوا حکومت بیرسٹر ڈاکٹر سیف مریم نواز انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔