سینیٹر فیصل واوڈا نے بیرون ملک قیدیوں کے جرمانے ادا کرنے کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر فیصل واوڈا نے بیرون ملک قیدیوں کے جرمانے ادا کرنے کا اعلان کردیا،فیصل واوڈا نے کہاکہ 25سے 50لاکھ کے جرمانے ادا کرنے کو تیارہوں۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز کا اجلاس ہوا،کمیونٹی ویلفیئراتاشی عمان نے قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز کو بریفنگ دی۔اتاشی نے کہا کہ عمان میں اس وقت 753پاکستانی قید ہیں،390قیدی 10سال یا اس سے زائد مدت کیلئے قید ہیں،سیکرٹری اوورسیز نے کہاکہ ذاتی نوعیت کے جرائم کے قیدیوں کا خرچ حکومت برداشت نہیں کرتی،کمیونٹی ویلفیئراتاشی نے کہاکہ ریاض میں 19لوگوں نے 10لاکھ تک جرمانہ ادا کرنا ہے،سینیٹر فیصل واوڈا نے بیرون ملک قیدیوں کے جرمانے ادا کرنے کا اعلان کردیا،فیصل واوڈا نے کہاکہ 25سے 50لاکھ کے جرمانے ادا کرنے کو تیارہوں،سعودی عرب میں قیدیوں کی حوالگی سے متعلق قائمہ کمیٹی نے تفصیلات طلب کرلیں۔
کنیئرڈ کالج میں اوکس کی طرف سے "امپاور ہر" فیسٹیول کا انعقاد، خواتین کی کثیر تعداد کی شرکت
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کے جرمانے ادا کرنے فیصل واوڈا نے نے کہاکہ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔