آڈیٹر جنرل پاکستان کی رپورٹ میں خیبر پختونخوا میں بڑی بے ضابطگیوں کی نشاندہی
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2025 GMT
آڈٹ رپورٹ کے مطابق غیر ضروری ڈیلی ویجرز کو پندرہ کروڑ سے ذائد ادائیگیاں کی گئیں، انکو بھی کسی اسسمنٹ کی بنیاد کے بغیر رکھا گیا تھا، اسکے لئے کوئی آفیشل آرڈر بھی نہیں کیا گیا تھا۔ کیڈرز کے غیر ضروری بھرتیوں پر بھی خزانہ کوچار کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی میں چالیس کروڑ کی بے قاعدگیاں کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈیٹر جنرل پاکستان نے سال 22-2021 آڈٹ رپورٹ خیبر پختونخوا اسمبلی میں جمع کرادی ہے، جس میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق غیر ضروری ڈیلی ویجرز کو پندرہ کروڑ سے ذائد ادائیگیاں کی گئیں، انکو بھی کسی اسسمنٹ کی بنیاد کے بغیر رکھا گیا تھا، اسکے لئے کوئی آفیشل آرڈر بھی نہیں کیا گیا تھا۔ کیڈرز کے غیر ضروری بھرتیوں پر بھی خزانہ کوچار کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔ اسی طرح پراونشل ڈائریکٹرز کو ایک کروڑ تیس لاکھ روپے غیر قانونی ادائیگیاں کی گئیں۔ کونسل آف کامن انٹرسٹ کے 34 ویں اجلاس 2017 کے مطابق پراونشل ڈائریکٹرز اور الائیڈ سٹاف کو تنخواہیں کے لئے متعلقہ صوبائی حکومتیں ڈائریکٹر جنرل پٹرولیم کنسشن کو ادا کرے گی تاہم مینجمنٹ خیبرپختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی نے ڈی جی(پی سی )میں کام کرنے والے پراونشل ڈائرکٹرز کو نومبر 2017 تک ہر مہینے 000۔250 کی ادائیگی کی۔
تاہم سروس کی مدت کےلئے ملازمت کے معاہدے کی کوئی ٹرمز اینڈ کنڈیشن پر عمل درآمد کروایا گیا۔جسکی وجہ سے 25۔13 ملین روپے کی غیر مجاز رقم کی نومبر 2017 سے مارچ 2022 تک ادائیگی کی گئی۔ سیکورٹی الات اور سپیشل الاونسز کی مد میں بھی کمپنی کو دو کروڑ تیس لاکھ کا نقصان ہوا ہے۔ چیف انٹرل اڈیٹر، منیجر کارپوریٹ فنناس اینڈ ٹیکسیشن کی تعیناتیوں اور انکو بطور کمپنی سیکریٹری میں بھی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔دونوں تعیناتیوں سے خزانے کو تین کروڑ 88 لاکھ روپے نقصان ہوا۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق کارپوریٹ گورننس رولز 2013 کی شق رولز 14(4)اور رولز 23(2)کے تحت کوئی بھی شخص پبلک سیکٹر کمپنی کے سیکریٹری کے طور پر متعین نہیں کیا جاسکتا جب تک وہ کسی پروفیشنل اکاؤنٹٹس تصدیق شدہ یا کارپوریٹ یا چارٹرڈ سیکٹریز کا ممبر نہ ہو اور بزنس ایڈمنسٹریشن،کامرس اور لاء یونیورسٹی سے گریجویٹ اور کم از کم پانچ سال کے تجربے کا حامل ہو۔
اسی طرح آڈٹ کمیٹی کی منظوری کے بعدچیف انٹرنل آڈیٹر مقرر کیا جاتا ہے اسکے لئے بھی پانچ سال تجربے کی شرط ہے۔آڈٹ کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ منیجمنٹ نے 14 مئی 2017 کو پوسٹ کومکمل مشتہر نہیں کیا۔ ملازمت کے لئے جس اہلیت کی ضرورت تھی اسکو بھی تبدیل کیا گیا۔امیدوار کا انٹرنل آڈٹ کا کسی پبلک سیکٹر ادارے میں کوئی تجربہ بھی نہیں تھا جبکہ امیدوار کی شارٹ لسٹنگ مینیجر کارپوریٹ فنناس کارپوریٹ افیئرز اینڈ ٹیکسیشن مینجمنٹ کی ہوئی اور اسکو مینیجر کارپوریٹ فنناس کی تقرری کی گئی جوکہ بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری کی بنیاد پر تھی لیکن اسکی ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے تصدیق نہیں ہوسکی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نقصان ہوا نہیں کیا کے مطابق گیا تھا ہوا ہے کے لئے
پڑھیں:
جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم لاہور میں انتقال کرگئے۔جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ امیرالعظیم صاحب اللہ کے حضور پیش ہوگئے۔
سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم طویل عرصے سے علیل اور کینسر کے مرض سے نبرد آزما تھے۔امیرالعظیم کی نماز جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔امیرالعظیم جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل کے علاوہ زمانۂ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ بھی رہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
لاہور میں 1958 میں پیدا ہونے والے امیرالعظیم نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی اور اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلی رہے۔جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سراج الحق نے انہیں 2019 اور 2024 میں موجودہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے مرکزی مجلس شوریٰ کے مشورے سے انہیں مرکزی سیکریٹری جنرل مقرر کیا۔
مزید :