تحریک انصاف کا 8 فروری کو مینار پاکستان پر جلسے کا فیصلہ، درخواست جمع
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2025 GMT
تحریک انصاف نے 8 فروری کو مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے درخواست لاہور انتظامیہ کو جمع کرادی۔
پی ٹی آئی نے اپنی سیاسی قوت شو کرنے کے لیے مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، 8 فروری کو جلسہ منعقد کرنے کے لیے چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ کو مقرر کیا گیا ہے جنہوں نے جلسے کی اجازت کے لیے تحریری درخواست ڈپٹی کمشنر لاہور کو جمع کروا دی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف آٹھ فروری کو گریٹر اقبال پارک گراؤنڈ میں جلسہ کرنے چاہتی ہے جس کے لیے این او سی دیا جائے ۔ جلسہ کی آرگنائزنگ کمیٹی میں چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ، اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر اور علی اعجاز بٹر شامل ہیں۔
تحریک انصاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اجازت نہ ملنے کی صورت میں پی ٹی آئی کی جانب سے ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔علاوہ ازیں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ ہم نے مطالبات میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا کہا تھا لیکن حکومت نے جواب نہیں دیا کیونکہ حکومت چاہتی نہیں تھی مذاکرات ہوں اور مسائل کا حل نکلے ۔
راولپنڈی کچہری میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھے لیکن حکومت نے مذاکرات میں تاخیر کی، حکومت سنجیدہ ہوتی تو اپنا جواب دیتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے یہ کہا کہ 28جنوری کو کمیٹی روم میں جواب دیں گے ، اگر حکومت ہمارے ساتھ جواب پہلے شیئر کرتی تو غور کر لیتے ۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات میں بانی پی ٹی آئی نے پہل کی جبکہ ہمارے اوپر ہر قسم کی سختیاں کی گئیں لیکن اس کے باوجود مذاکرات میں پہل کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ آرمی چیف کے علاوہ کسی سے ملاقات نہیں ہوئی۔کیس کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ آج جج زیبا چوہدری کے سامنے ہمارا کیس لگا ہوا تھا، وہ قائم مقام جج ہیں اس وجہ سے انہوں نے تاریخ دی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ویسٹ کا مستقل جج ہوگا اور پراسس آگے چلے گا، یہ کیس آگے جا سکتا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: تحریک انصاف پی ٹی ا ئی فروری کو کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔