امریکا: مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر ٹکرا کر دریا میں گر گئے، 18 لاشیں نکال لی گئیں
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2025 GMT
امریکا: مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر ٹکرا کر دریا میں گر گئے، 18 لاشیں نکال لی گئیں WhatsAppFacebookTwitter 0 30 January, 2025 سب نیوز
امریکی ایئر لائنز کا ایک مسافر طیارہ اور فوجی ہیلی کاپٹر ریگن نیشنل ایئرپورٹ واشنگٹن کے قریب فضا میں ٹکراکر دریائے پوٹومیک میں گر کر تباہ ہوگئے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوگئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ دریا کے پانی سے اب تک 18 لاشیں نکال لی گئی ہیں، تاہم تاحال کسی زندہ شخص کو نہیں نکالا گیا۔
ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ٹیڈ کروز نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ ہلاکتیں ہوئی ہیں‘، تاہم انہوں نے تعداد نہیں بتائی۔
ایئرلائن کے مطابق طیارہ امریکن ایئر لائنز کی پرواز 5342 تھا، جس میں 60 مسافر اور عملے کے 4 ارکان سوار تھے، حکام کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر میں 3 فوجی سوار تھے، جو تربیتی پرواز اڑا رہے تھے۔
ریگن نیشنل ایئرپورٹ پر تمام پروازوں کے ٹیک آف اور لینڈنگ کا عمل روک دیا گیا ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں سوار ایک خاتون مسافر کا حوالہ دیتے ہوئے ایک شخص نے ایئرپورٹ حکام سے کہا کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ وہ وہاں پہنچی یا نہیں‘، اتنا کہہ کر ان کے آنسو گرنے لگے۔
امریکی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس بات کی تصدیق کی جاسکتی ہے کہ آج رات کے واقعے میں گرنے والا طیارہ ورجینیا کے شہر فورٹ بیلوار سے نکلنے والا آرمی کا یو ایچ 60 ہیلی کاپٹر تھا، ہم مقامی عہدیداروں کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور دستیاب ہونے کے بعد اضافی معلومات فراہم کریں گے۔
فروری 2009 کے بعد سے امریکا میں کوئی مسافر طیارے کا حادثہ پیش نہیں آیا، لیکن حالیہ برسوں میں بعض واقعات نے سنگین حفاظتی خدشات کو جنم دیا ہے۔
واشنگٹن کے کینیڈی سینٹر سے لی گئی ایک ویب کیمرے کی ویڈیو میں رات 9 بج کر 47 منٹ (رات 7 بج کر 47 منٹ پاکستانی وقت) کے قریب دریائے پوٹومیک کے پار ہوا میں دھماکا دیکھا جا سکتا ہے۔
امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ پی ایس اے ایئرلائنز کا سی آر جے 700 ریجنل جیٹ ریگن کے قریب ہیلی کاپٹر سے ٹکرا گیا جو وچیٹا، کنساس سے روانہ ہونے والی پرواز 5342 تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ کی سرحد سے متصل دریائے پوٹومیک میں متعدد ایجنسیاں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔
حادثے کے بعد درجنوں پولیس اہلکار، ایمبولینس اور ریسکیو یونٹس، جن میں سے کچھ کشتیاں لے کر جا رہے تھے، دریا کے کنارے کھڑے ہو گئے اور ریگن ہوائی اڈے کے کنارے کی پوزیشنز پر پہنچ گئے، براہ راست ٹی وی تصاویر میں کئی کشتیوں کو پانی میں دیکھا جا سکتا ہے جن پر نیلی اور سرخ لائٹیں لگی ہوئی ہیں۔
ایک عینی شاہد اری شولمین نے بتایا کہ ’چنگاریوں کا ایک بہاؤ‘ تھا، رات کے وقت جب میں گھر جا رہا تھا تو یہ بڑی آتش بازی کی طرح لگ رہا تھا، پہلی نظر میں، میں نے طیارے کو دیکھا اور یہ ٹھیک لگ رہا تھا، نارمل تھا، لیکن پھر یہ نیچے گرتا دکھائی دیا۔
انہوں نے کہا کہ 3 سیکنڈ بعد یہ گر گیا، اور اس وقت طیارے کو دائیں طرف لے جایا گیا تھا، میں اس کے نچلے حصے کو دیکھ سکتا تھا، یہ ایک بہت ہی چمکدار پیلے رنگ سے مزین تھا اور اس کے نیچے چنگاریوں کا بہاؤ تھا، یہ ایک موم بتی کی طرح لگ رہا تھا۔
نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بارے میں مزید معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔
امریکن ایئر لائنز نے سوشل میڈیا پر کہا کہ وہ ان اطلاعات سے آگاہ ہے کہ پی ایس اے کے ذریعے چلائی جانے والی امریکن ایگل کی پرواز 5342، جو وچیٹا، کنساس (آئی سی ٹی) سے واشنگٹن ریگن نیشنل ایئر پورٹ (ڈی سی اے) کے لیے سروس کے ساتھ ایک حادثے کا شکار ہوگئی ہے۔
گزشتہ 2 برسوں کے دوران امریکی ایوی ایشن سیفٹی اور ایئر ٹریفک کنٹرول آپریشنز پر دباؤ کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
ایف اے اے کے ایڈمنسٹریٹر مائیک وائٹکر نے 20 جنوری کو استعفیٰ دے دیا تھا اور ٹرمپ انتظامیہ نے کسی متبادل کا اعلان نہیں کیا اور نہ ہی یہ بتایا کہ عبوری بنیادوں پر ایجنسی کو کون چلا رہا ہے؟
واشنگٹن ڈی سی میں گر کر تباہ ہونے والے طیارے میں 60 مسافر اور عملے کے 4 ارکان سوار تھے،امریکن ایئر لائنز
29 جنوری کو امریکن ایئر لائنز نے کہا کہ امریکہ میں رونالڈ ریگن واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہونے والے طیارے میں 60 مسافر اور عملے کے 4 ارکان سوار تھے۔
ایف اے اے نے کہا کہ گر کر تباہ ہونے والا طیارہ ایک بمبارڈیئر جیٹ تھا جو رونالڈ ریگن واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ کے رن وے کے قریب آتے ہی سیکورسکی H-60 بلیک ہاک ہیلی کاپٹر سے فضا میں ٹکرا گیا۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر ایک فوجی ’بلیک ہاک‘ ہیلی کاپٹر تھا اور حادثے کے وقت ہیلی کاپٹر میں کوئی اعلیٰ فوجی اہلکار سوار نہیں تھا۔29 تاریخ کو، واشنگٹن فائر اینڈ ایمرجنسی میڈیکل سروسز ڈیپارٹمنٹ نے سوشل میڈیا پر تصدیق کی کہ رونالڈ ریگن واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب دریائے پوٹومیک میں ایک چھوٹا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔
امریکا میں کمرشل ایئرلائن کو آخری بار 2009 میں حادثہ پیش آیا تھا، جب کولگن ایئر کی پرواز نیویارک میں گر کر تباہ ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 49 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ہیلی کاپٹر
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز