کراچی:

پی آئی اے پائلٹس کی تنظیم پاکستان ائیرلائن پائلٹس ایسوسی ایشن(پالپا)کی پنشن کمیٹی کے عہدیداروں نے ریٹائرڈ پائلٹس سمیت دیگر ملازمین کے پینشن فنڈز سے 400کروڑ روپے غائب ہونے کا انکشاف کرتے ہوئے فرانزک آڈٹ کا مطالبہ کر دیا ہے۔

پالپا ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی آئی اے کے ریٹائرڈ پائلٹس کی پنشن کمیٹی کےعہدیدار کیپٹن بشارت چوہدری سمیت کمیٹی کے دیگر اراکین نے انکشاف کیا کہ ملازمین کے پنشن فنڈ کے 400 کروڑ روپے سے زائد غائب کردیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چونکا دینے والی بات یہ ہے، اکاؤنٹ میں رقم موجود نہیں ہے، اس بات کا غالب امکان ہے کہ پینشن ٹرسٹ میں موجود رقم قواعد وضوابط کے خلاف کہیں اور استعمال کی گئی ہے، اس معاملے پر سی ای او پی آئی اے سے ملاقاتوں میں انتظامیہ نےانتظامی طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کیا ہے، مگر انتظامیہ کے پاس ملازمین کو دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔

بشارت چوہددی کا کہنا تھا کہ اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ پیشن فنڈ کا فرانزک آڈٹ کروایا جائے، پنشن کے متاثرہ افراد میں بیواؤں کو ملاکر 850 خاندان بنتے ہیں، پنشن ٹرسٹ فنڈ میں بینیفشری کی کوئی نمائندگی نہیں ہےجبکہ پنشن ٹرسٹ کا 10 سال سے کوئی اجلاس نہیں ہوا۔

رہنماوں نے مطالبہ کیا کہ ٹرسٹ کا اجلاس فوری طور پر بلایا جائے اور پنشن کی درست کیلکولیشن کی جائے، قوانین کے مطابق پنشن کی بلا تعطل ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔

کیپٹن رفعت سعید نے کہا کہ ٹرسٹ میں بینفشری کی نمائندگی لازمی کی جائے، گریجویٹی اورپینشن کی اصل مدت کا تعین کیا جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سابق وزیر ہوابازی سعد رفیق نے پی آئی اےکو اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بنانے کی ہدایت کی تھی، ان ہدایات کے تحت کمیٹی نے تقریباً ایک سال تک پنشن کے حساب کتاب میں ہونے والی بےضابطگیوں اور پی آئی اے سی ایل پنشن فنڈ ٹرسٹ کےمجموعی آپریشنز کا جائزہ لینے کے لیےکام کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پی آئی اے

پڑھیں:

پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟

پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔

اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔

تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں:

البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔

’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4  ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘

مزید پڑھیں:

گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔

’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘

انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:

’اگر ہفتے میں 2  دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘

ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔

گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔

’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ جانیے
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف