امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کینیڈا کو اپنی 51 ویں ریاست بنانے کا دعویٰ کیا ہے اور کینیڈین عوام کو اس کے بدلے محصولات میں رعایت دینے اور بھرپور فوجی تحفظ دینے کا بھی وعدہ کیاہے۔

اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ امریکا کینیڈا کو سبسڈی دینے کے لیے سینکڑوں ارب ڈالرادا کرتا ہے، اتنی بڑی سبسڈی کے بعد کینیڈا ایک قابل عمل ریاست کے طور پراپنا وجود کھودیتا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ یہی وجہ ہے کہ کینیڈا کو ہماری 51 ویں ریاست بننا چاہیے، ٹرمپ نے کہا کہ اس اقدام سے ’کینیڈا کے عوام کو بہت کم ٹیکس ادا کرنا پڑے گا اور کہیں بہتر فوجی تحفظ بھی ملے گا اور کوئی مزید ٹیرف بھی ادا نہیں کرنا پڑے گا‘۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ‘ہم امریکہ کو ایک بار پھر عظیم بنائیں گے اور اس کے لیے امریکا ہر قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اہم تجارتی شراکت داروں پر محصولات عائد کرنے سے امریکیوں کو معاشی ’تکلیف‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ہفتے کے روز ٹرمپ نے آزاد تجارتی معاہدے کے باوجود ہمسایہ ممالک میکسیکو اور کینیڈا پر 25 فیصد محصولات عائد کرنے کی دھمکی پر دستخط کیے اور چین پر پہلے سے عائد محصولات میں 10 فیصد اضافہ کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ صدرٹرمپ نے حلف برداری سے قبل ہی اس طرح کے اقدامات کرنے کا عہد کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ یہ ممالک غیر قانونی امیگریشن اور امریکا میں افیون فینٹانل کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہے ہیں۔

منگل سے شروع ہونے والے محصولات کے نفاذ میں ٹرمپ انتظامیہ نے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کو بھی نافذالعمل کردیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام پر تینوں ممالک چین، کینیڈا اور میکسیکو نے فوری طور پر جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے، جبکہ تجزیہ کاروں نے امریکی صدرکو متنبہ کیا کہ تجارتی جنگ ممکنہ طور پر امریکی ترقی کو سست کردے گی اور مختصر مدت میں ہی مہنگائی میں اضافہ کرے گی۔

اتوارکو ٹروتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ڈونلڈ ٹرمپ نے محصولات سے متعلق اشارتاً 3 ممالک کو لکھا کہ ’ کیا کچھ درد ہو گا؟‘ جی ہاں، شاید (اور شاید نہیں!) ۔

ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’ ہم امریکا کو دوبارہ عظیم بنائیں گے اور اس کے لیے ہم کوئی بھی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں‘۔

امریکی صدر اور ان کے مشیروں نے اس سے قبل اس بات کو قبول کرنے سے گریز کیا تھا کہ محصولات سے امریکا میں مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ بظاہر ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو محدود کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے توانائی کی درآمدات پر صرف 10 فیصد ٹیکس عائد کیا۔

ایک علیحدہ سوشل میڈیا پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھراپنے شمالی ہمسایہ ملک کینیڈا کو امریکی ریاست بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، جس کے بعد کینیڈا کے ساتھ تناؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ امریکا کینیڈا کو سبسڈی دینے کے لیے سینکڑوں ارب ڈالرادا کرتا ہے، ٹرمپ نے مزید کہا کہ اتنی بڑی سبسڈی کے بعد کینیڈا ایک قابل عمل ریاست کے طور پر اپنا وجود کھو دیتا ہے۔

انہوں نے ٹروتھ سوشل پر مزید لکھا کہ یہی وجہ ہے کہ کینیڈا کو ہماری 51 ویں ریاست بننا چاہیے، ٹرمپ نے کہا کہ اس اقدام سے ’کینیڈا کے عوام کو بہت کم ٹیکس ادا کرنا پڑے گا اور کہیں بہتر فوجی تحفظ بھی ملے گا، کوئی اضافی ٹیرف بھی ادا نہیں کرنا پڑے گا‘۔

ادھر امریکی مردم شماری بیورو نے کینیڈا کے ساتھ تجارت میں 2024 کے تجارتی خسارے کو 55 بلین ڈالر کے طور پر درج کیا ہے۔

کینیڈا کا امریکی مصنوعات پر 25 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا اعلان

ادھرڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک 155 بلین کینیڈین ڈالر (106.

6 بلین امریکی ڈالر) مالیت کی منتخب امریکی مصنوعات پر 25 فیصد ٹیکس عائد کرے گا۔

کینیڈا کے متعدد صوبوں کے رہنما پہلے ہی جوابی کارروائیوں کا اعلان کر چکے ہیں، دوسری جانب میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے وزیر اقتصادیات کو پلان بی پر عمل درآمد کی ہدایت کی ہے جس میں ٹیرف اور نان ٹیرف اقدامات شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقتصادیات امریکا امریکی ریاست امریکی صدر بام ٹیکس جسٹن ٹروڈو چائنا چین دھمکی ڈونلڈ ٹرمپ ریاست سوشل میڈیا کلاڈیا شین کینیڈا محصولات مشیر میکسیکو وزیر وی نیوز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اقتصادیات امریکا امریکی ریاست امریکی صدر ٹیکس جسٹن ٹروڈو چائنا چین دھمکی ڈونلڈ ٹرمپ ریاست سوشل میڈیا کینیڈا محصولات میکسیکو وی نیوز ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا امریکی صدر کینیڈا کے کینیڈا کو انہوں نے کے بعد کی صدر نے کہا کیا ہے کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان