ٹرمپ نے میکسیکو پر عائد تجارتی ٹیرف ایک ماہ کیلئے مخر کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 3 February, 2025 سب نیوز

واشنگٹن(آئی پی ایس ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکو پر عائد تجارتی ٹیرف کو ایک ماہ کے لیے مخر کردیا۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ میکسیکو پر عائد تجارتی ٹیرف کو ایک ماہ کے لیے مخر کررہے ہیں اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے۔

ٹرمپ نے میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام سے ٹیلی فونک گفتگو کے بعد سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ وہ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور دیگر محکموں کے سربراہان کے ساتھ خود بھی ان مذاکرات میں شامل ہوں گے۔ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میکسیکو نے امریکا میں منشیات، خاص طور پر فینٹانل کے داخلے کو روکنے کے لیے امریکا کے ساتھ سرحد پر 10 ہزار نیشنل گارڈز کی تعیناتی کی حامی بھری ہے۔

دوسری جانب میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے کہا کہ امریکا بھی میکسیکو میں ہائی پاورڈ ہتھیاروں کی اسمگلنگ روکنے کے لیے کام کرے گا۔دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان ہونے والی یہ ٹیلی فونک گفتگو امریکی صدر کی جانب سے کینیڈا، میکسیکو اور چین پر عائد تجارتی ٹیرف کے نفاذ سے چند گھنٹے قبل ہوئی۔

خیال رہے کہ یکم فروری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑے تجارتی شراکت داروں چین، کینیڈا اور میکسیکو پر نئے ٹیرف عائد کرنے کے حکمنامے پر دستخط کیے تھے۔حکم نامے کے تحت کینیڈا سے امریکا برآمد کیے جانے والے سامان پر 25 فیصد ٹیرف عائد کردیا گیا ہے تاہم کینیڈین آئل پر یہ ٹیکس 10 فیصد لگایا گیا ہے۔ اسی طرح میکسیکو سے امریکا برآمد کی گئی اشیا پر بھی 25 فیصد ٹیکس لگایا گیا ہے جبکہ چین سے امریکا بھیجی جانے والی اشیا پر 10 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ٹرمپ نے میکسیکو ایک ماہ

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی