بھارت کا جنگی جنون ، دفاعی بجٹ میں اضافہ ، 22 کھرب تک پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT
نئی دہلی : بھارت نے اپنا جنگی جنون جاری رکھتے ہوئے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں دفاعی اخراجات میں9.5 فیصد اضافہ کردیاہے جس کے بعددفاع کا مجموعی بجٹ 78 ارب ڈالر تک پہنچ گیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے بجٹ 2025-26 مالی سال کے لیے 6.81 ٹریلین روپے کے دفاعی اخراجات کی تجویز پیش کی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 9.
دفاعی بجٹ میں اضافے کے بعد بھارت کا دفاعی بجٹ 21کھرب 94 کروڑ تک پہنچ گیا ہے،جوکہ مجموعی بجٹ کا 13.44فیصدہے، جو تمام وزارتوں میں سب سے زیادہ حصہ ہے۔
بھارت کے دفاعی بجٹ میں تیزی سے اضافہ سے خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی فوجی صلاحیتوں اور خاص طور پر ہمالیہ اوربحر ہند اور بحرالکاہل میں سرحدوں پر چین کے اثرورسوخ پر بھارت کے خدشات کی عکاسی ہوتی ہے ۔
ماہرین دفاعی بجٹ میں اس اضافے کو ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں حکومت کی تبدیلی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، جہاں بھارت کا اسٹریٹجک اثر ورسو خ کمزور ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق بھارت ہمسایہ ممالک کو غیر مستحکم کرنے اور خطے میں اپنی بالادستی برقرار رکھنے کیلئے مذموم کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ان کارروائیوں میں سرحدپار دہشت گرد گروپوں کی حمایت کرنابھی شامل ہے ۔
بھارت کی مذموم کارروائیوں کی وجہ سے خاص طورپر پاکستان کے ساتھ کشیدگی اورعدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ خطے کی صورتحال پہلے ہی غیر مستحکم ہے ۔تنازعات اور مسائل کو طویل المدتی سفارتی کاری کے ذریعے حل کرنے کی بجائے بھارت فوجی اخراجات میں تیزی سے اضافہ کرکے چین اور پاکستان کو جارحانہ سوچ کا پیغام دے رہا ہے ۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ فوجی بجٹ میں تیزی سے اضافے سے خطے میں بالادستی کا خواب دیکھنے والے بھارت کی جارحانہ سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دفاعی بجٹ میں
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔