کشمیری عوام 77 سال سے غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں، طاہر کھوکھر
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
سابق وزیر نے کشمیر کے مسئلے پر صرف سیاسی مذمت تک محدود رہنے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کشمیر کی آزادی کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق وزیر سیاحت و ٹرانسپورٹ محمد طاہر کھوکھر نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری عوام 77 سال سے غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں اور نہ انہیں معاشرتی آزادی حاصل ہے اور نہ ہی مذہبی۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام ہمارے جسم کا حصہ ہیں، انہیں چوٹ پہنچتی ہے تو ہمیں بھی درد ہوتا ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طاہر کھوکھر نے کہا کہ یہ ہمارے حکمرانوں اور پوری دنیا کے لیے شرم کا مقام ہے کہ وہ کشمیری عوام کی آزادی کے لیے کوئی عملی کردار ادا نہیں کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کی آزادی صرف نعروں اور بیانات سے ممکن نہیں، اگر ایسا ہوتا تو آج کشمیر آزاد ہوتا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کشمیریوں کو ہماری عملی جدوجہد اور توجہ کی ضرورت ہے۔ ہم مقبوضہ کشمیر کی عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ہیں اور ان کے لیے ہر محاذ اور ہر فورم پر ان کی آواز بن کر بولیں گے اور ان کی آزادی کے لیئے لڑیں گے، انڈیا نے کشمیریوں کا استحصال کیا، کشمیری عوام کو شہید کیا اور بے گناہ کشمیریوں کو بدنام زمانہ جیلوں میں پابند سلاسل رکھا ہوا ہے، تاکہ کشمیری عوام کی آزادی کی تحریک کو دبایا جا سکے مگر کشمیری جنگجو، بہادر، پہاڑی قوم ہے وہ جھکنے والی نہیں ہے، ان کے حوصلے بلند ہیں کشمیری مائوں نے جنگجو پیدا کیے ہیں جو 77سال سے ٹوٹے نہیں انڈیا کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہیں جن پر بھارت نے 10لاکھ سے زائد فوج، بدنام ایجنسیاں، ہندووں دہشت گرد تنظیمیں مسلط کی ہوئی ہیں مگر ان کا حوصلہ نہیں توڑ سکی ہیں ہم کشمیری مائوں اور بھائیوں کی ہمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔
طاہر کھوکھر نے کہا کہ بیس کیمپ کو بحال کیا جائے اور دنیا اور بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی جائے۔ انہوں نے پاکستانی حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جائیدادیں اور کاروبار بیرون ممالک ہیں، جس کی وجہ سے وہ بھارت کے سامنے مضبوط موقف نہیں اپنا پاتے، ان کا کہنا تھا کہ ہمارے حکمرانوں کو اپنی سیاست اور اقتدار عزیز ہے، وہ کشمیر کے مسئلے پر سنجیدہ نہیں ہیں۔ سابق وزیر نے کہا کہ جہاد ہی کشمیر کی آزادی کا واحد راستہ ہے، بیس کیمپ کو بحال کر کے کشمیری عوام کو خود اپنی جدوجہد کرنی ہو گی، دنیا نے کشمیریوں کو دھوکہ دیا ہے اور کشمیریوں کے قتل عام اور مظالم کے ذمہ دار ہمارے حکمران اور پوری دنیا ہے جو سب کچھ دیکھنے کے باوجود خاموش ہے۔ طاہر کھوکھر نے کشمیر کے مسئلے پر صرف سیاسی مذمت تک محدود رہنے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کشمیر کی آزادی کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں، کشمیری عوام کی جدوجہد کو نعروں سے آگے بڑھ کر عملی شکل دی جائے۔ کشمیر کا مسئلہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں مرکزی اہمیت رکھتا ہے اور اس کے حل کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کشمیر کی ا زادی طاہر کھوکھر نے کی ا زادی کے کشمیری عوام کہ کشمیری نے کہا کہ کہ کشمیر کے لیے
پڑھیں:
بلاول برخودار! کشمیر کو کشمور، میرپور کو میرپور خاص نہ سمجھنا، نواز شریف
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں ان کی حکومت کے بعد آنے والی حکومتوں نے کچھ نہیں کیا اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو سے کہا کہ کشمیر کو کشمور اور میرپور کو میرپور خاص نہ سمجھنا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرپور اتنا خوب صورت شہر ہے لیکن جتنا خوب صورت ہونا چاہیے تھا اتنا نہیں ہے اور اپنے دور کے میرے کام ادھورے پڑے ہوئے پروان نہیں چڑھ سکے۔
انہوں نے کہا کہ ہم یہ عہد لے کر آئے ہیں کہ میرپور اور آزاد کشمیر کی تقدیر بدل دیں گے، میرے وزارت عظمیٰ سے جانے کے بعد میں خاموش رہا لیکن کشمیر میں کوئی ترقی نہیں ہوئی، میں ان حکومتوں سے پوچھنا چاہتا ہوں جو نواز شریف کی حکومت کے بعد آزاد کشمیر اور پاکستان میں آئیں اس نے آزاد کشمیر کے لیے کیا کیا ہے اگر کچھ کیا ہے تو مجھے بتاؤ۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں اپنا گھر سمجھتا ہوں، کشمیر میرا پہلا گھر ہے، مجھے لاہور بھی پیارا اور کشمیر بھی اتنا ہی پیارا ہے، اس کو کشمور نہ سمجھنا، یہ کشمیر ہے، یہ میرپور ہے میرپور خاص نہیں ہے، بلاول میری بات کا برا نہ ماننا، آپ میرے برخوردار ہو یہ نوک جھونک سیاسی جماعتوں میں ہونی چاہیے، تلخی نہیں ہونی چاہیے، لڑائی، مار کٹائی نہیں ہونی چاہیے، نوک جھوک ہونی چاہیے یہ بڑی اچھی بات ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح نوجوانوں کو تعلیم دینا ہے، یہاں اسکول اور یونیورسٹیاں بنیں گی اور صحت پر خصوصی توجہ دی جائے گی، مریم نواز پنجاب میں دل اور کینسر کے اسپتال بنا رہی ہیں اور ہر قسم کی مشینری موجود ہے، میں شہباز شریف اور مریم سے کہوں گا کہ یہاں کے ہر اسپتال میں وہی کچھ ہونا چاہیے جو پنجاب میں آپ کر رہی ہیں، یہاں بھی کینسر اور دل کے بےشمار اسپتال ہونے چاہئیں، یہاں بھی سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی ہونی چاہیے، یہ لوگ علاج معالجے کے لیے اسلام آباد نہ جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے علاج معالجے کی سہولتیں میرپور، کوٹلی، بھمبر اور پورے آزاد کشمیر میں ہونی چاہئیں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ جو الیکٹرک بسیں لاہور میں چلتی ہیں مریم نواز یہاں بھی لے کر آئی ہیں، اسپتال آن ویلز بھی آئیں گے اور 10 اسپتال یہاں آئیں گے۔
جلسے میں کشمیر کی مجبوری ہے نواز شریف ضروری ہے کے نعرے لگے تو جواب میں سابق وزیراعظم نے کہا کہ اگر یہاں مسلم لیگ(ن) کی حکومت بنتی ہے اور مسلم لیگ(ن) کا وزیراعظم بنتا ہے تو میں اس کے ساتھ خود چل کر آزاد کشمیر کے چپہ چپہ جاؤں گا اور اپنی نگرانی میں کام کراؤں گا اور منشور کی تکمیل ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اسپتال، کالج بنیں گے، موٹرویز بنیں گی، مانسہرہ سے مظفر آباد اور مظفرآباد سے میرپور جہلم دریا کے ساتھ ساتھ ایک موٹر وے بنانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن بدقسمتی سے میرے جانے کے بعد آنے والی حکومتوں نے کوئی توجہ نہیں دی اور وہ موٹروے نہیں بن سکی، وہ منصوبہ ایسا تھا وہ کشمیر کی تقدیر بدل دیتا، کشمیر کو خوش حالی سے ہم کنار کرتا اور ان شااللہ اس کو بنائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ مظفر آباد کے شہریوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں اسلام آباد سے مری جیسی ایکسپریس وے کو مظفر آباد تک لے جائیں گے۔