پنجاب پولیس کے افسران کے لیے اچھی خبر
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
سٹی42: پنجاب پولیس کے افسران اور اہلکاروں کے لیے ایک بڑی خوشخبری، انہیں چین میں سکالرشپ حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
پنجاب پولیس کے افسران، جن میں کانسٹیبل سے لے کر ایڈیشنل آئی جی رینک کے افسران تک شامل ہیں، سکالرشپ کی درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔
چائنہ کی 30 یونیورسٹیوں میں سے کسی بھی یونیورسٹی میں سکالرشپ کی درخواست دی جا سکتی ہے۔ یہ سکالرشپ بیچلرز ڈگری کے لیے 4 سال اور ماسٹرز ڈگری کے لیے 2 سال کے لیے ہوگی۔ سکالرشپ کے اخراجات چائنہ حکومت کے ذریعے مکمل طور پر برداشت کیے جائیں گے۔
آج کے گوشت اور انڈوں کے ریٹس - منگل 04 فروری, 2024
پنجاب پولیس کے 3 افسران اور اہلکار اس سکالرشپ پروگرام میں حصہ لیں گے۔ سکالرشپ کی درخواستیں 7 فروری تک وصول کی جائیں گی اور اس کے بعد سلیکشن کے ذریعے افسران اور اہلکار منتخب ہوں گے۔
آئی جی پنجاب کے حکم پر اے آئی جی ٹریننگ پنجاب نے اس حوالے سے متعلقہ افسران کو مراسلہ جاری کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت منتخب افسران چائنہ جا کر اپنے تعلیمی اخراجات چین حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والی سکالرشپ کے ذریعے پورے کریں گے۔
پاکستان میں شرح پیدائش میں نمایاں کمی،اقوام متحدہ نے خبردار کردیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 پنجاب پولیس کے کے افسران کے لیے
پڑھیں:
ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
تہران / واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراق کے ذریعے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک بنیادی تنازعات، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے، کا حل پیش نہ کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام پہنچایا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تجویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مختصر یا عارضی جنگ بندی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر کوئی واضح پیش رفت شامل نہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایران کو آگاہ کیا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی مختلف ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا رویہ ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا غیرمنطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول قائم کرنے والا طرزِ عمل موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے اور کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں جو اس کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کرے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی حکومت نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ یا ایران کے مؤقف پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عراق، قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔