Daily Ausaf:
2025-04-25@10:33:59 GMT

اب دہشت گردوں کو روکنے کے لئے عوام کو آگے آناہوگا

اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2025 GMT

اس وقت ملک میں ایک بار پھر دہشت گردی بڑھ رہی ہے۔ اس کے ساتھ ان کو روکنے کے لئے ہماری بہادر افواج کے سپاہی اپنی قیمتی جانوں کانذرانہ پیش کررہے ہیں۔ اس وقت صرف چند ممالک ایسے ہیں جو پاکستان کی ترقی اور استحکام سے خائف ہیں‘ اس کو اندر سے توڑنے اور کمزور کرنے کی سازشیں کرر ہے ہیں‘ تاہم یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان ایک مضبوط اور مستحکم ملک ہے‘ جس میں 25کروڑ عوام رہ رہے ہیں اور بڑی ایمانداری اور حوصلہ مندی سے ملک میں رزق تلاش کررہے ہیں۔ جبکہ اپنی ذہانت اور محنت کے ذریعے اس ملک کو مستحکم کررہے ہیں۔ نیز اس کے ساتھ ہی وہ ان طاقتوں کا بھی بڑی جرات کے ساتھ مقابلہ کررہے ہیں جو غیر ملکی ایجنٹوں کے ساتھ ملکر اس ملک میں فتنہ وفساد کاماحول پیدا کرنے کی مذموم حرکتوں میں ملوث ہیں۔ لیکن پاکستان کے عوام اور فوج کے درمیان اٹوٹ اتحاد کی روشنی میں یہ ’’ عناصر ‘‘ مملکت خداداد کو اندر سے کمزور کرنے کی حرکتیں کررہے ہیں۔لیکن پاکستان کے عوام اور پاکستان کی فوج ان کی راہ میں ایک چٹان کی مانند کھڑی ہے اور آئندہ بھی کھڑی رہے گی‘ کیونکہ عوام اور فوج کے درمیان ’’ حوصلہ مند تعلقات‘‘ کی وجہ سے ملک دشمن عناصر آہستہ آہستہ پسپائی اختیار کررہاہے دوسری طرف یہ عناصر بہت جلد اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے۔
عوام کو یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان کاقیام برصغیر کے مسلمانوں کی عظیم قربانیوں کی وجہ سے معروض وجود میں آیاہے‘ اور اس کی تعمیر وتشکیل میں ان کا اور ان کے پسماندگان کا خون شامل ہے اور اس وقت جبکہ دہشت گرد ملک میں سیاسی وسماجی حالات کو خراب کرنے کی مذموم سازشوں میں مصروف ہیں۔ لیکن باشعور عوام کے درمیان اتحاد کی وجہ سے ان کا منصوبہ ناکام ہورہاہے۔ اس لئے ان جیسے عناصر کو چاہیے کہ وہ اپنے ’’ ہتھیار‘‘ پھینک کر نہ صرف پاکستان کی تعمیر نو کرنے والوں کے ساتھ شامل ہوجاناچاہیے جبکہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی بھی کرنی چاہیے جو اس ملک کو کمزور کرنے کی سازشوں میں ملوث ہیں۔ لیکن جب تک اس ملک میں پاکستان کے عوام اور افواج پاکستان کے مابین اتحاد برقرار ہے‘ ملک کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچ سکتاہے۔ اور نہ ہی ایسا کبھی ہوسکے گا۔
تاہم یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ باشعور پاکستانیوں کو ہر وقت بیدار رہنے کی ضرورت ہے‘ کیونکہ دشمن ہرطرف سے پاکستان کے استحکام کے خلاف مذموم کارروائیوں میں مصروف ہے۔ بلکہ اب جبکہ پاکستان معاشی طور پر ٹیک آف کررہاہے۔ ہر پاکستانی کو چاہیے کہ وہ ارد گرد کے حالات سے باخبر اور بیدار رہے تاکہ پاکستان دشمن عناصر کی بیخ کنی کی جاسکے۔ نیز اس وقت پاکستان کے حالات مناسب نہیں ہیں بلکہ کچھ عناصر پاکستان کو نقصان پہنچاچاہتے ہیں اور ان کا موقف صرف ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ پاکستان کو اس ڈگر پر لے جایا جائے جہاں معاشی ترقی ممکن ہوسکے۔ لیکن یہ اس ہی وقت ہوسکے گا جب آپ کا اتحاد مجروح ہوجائے گا۔ جو کبھی بھی (انشاء اللہ) نہیں ہوسکے گا۔ بقول قائداعظم محمد علی جناح ؒپاکستان ہمیشہ کے لئے قائم ہوا ہے اور انشاء اللہ تاقیامت قائم رہے گا۔ شرط صرف اتنی ہے کہ ہر پاکستانی کو ملک کی ترقی کے ضمن میں متحرک اور فعال ہونا پڑے گا تاکہ یہ ملک آگے بڑھ سکے گا۔ اور کمزور ہونے کی صورت میں دشمن کی زد میں ہوگا۔ تاہم اس وقت نوجوان طبقہ بیدار ہوہاہے۔ اور انہیں احساس ہوچکاہے کہ وہ انہیں اپنے مذموم مقاصد کی خاطر پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن حالات بتارہے ہیں کہ ان پاکستان دشمن عناصر کو کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔
اس وقت نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ آگے بڑھ کر پاکستان کے سبز وہلالی پرچم کو سربلند رکھیں اور یہ عہد کریں کہ ہرحالات میں اس پر چم کو بلند رکھناہے۔ میں یہ الفاظ اس لئے لکھ رہاہوں کہ پاکستان میں اچھی طرز حکمرانی اور عوام دوست پالیسیاں نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے عوام معاشی طور پر نہ صرف پریشان ہیں بلکہ مایوس بھی ہیں۔ اس مایوسی کا جواب اس حقیقت میں مضمر ہے کہ حکومت وقت کو اب ایسی معاشی پالیسیاں بنانی ہوںگی جو عوام کو غربت اور مایوسی سے نکال کر انہیں ترقی اور روشنی کی جانب لانے کا سبب بن سکے۔ ہرچند کہ یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں بلکہ عوام ‘ فوج اور باشعور سیاستدانوں کے باہم اتحاد سے یہ ممکن ہوسکے گا۔ بلکہ ملک کو آئندہ ترقی سے ہمکنار کرنے کا موجب بھی بنے گا۔ پاکستان کا اس وقت سنگین مسئلہ دہشت گردی ہے جس کی وجہ سے ملک اندر سے کمزور ہورہاہے لیکن جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھاہے کہ اب عوام اور خواص دونوں بیدار ہوچکے ہیں کہ پاکستان کو اگر بچانا ہے تو ملک دشمن عناصر کا ہر قدم پر ان کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی بلکہ انہیں سماج سے بے دخل کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔
اس حقیقت کو اس وقت زیادہ یاد کرنے کی ضرورت ہے کہ ’’پاکستان ہے تو ہم ہیں‘‘۔ اس مملکت کو آگے کی جانب لے جانے میں عوام کے ساتھ ساتھ فوج کے کرداو کو نظرانداز نہیں کرناچاہیے بلکہ سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ اچھی سیاست کے ذریعے ملک میں سیاسی وسماجی استحکام لانے کی کوشش کریں اور فوج کی جانب نہ دیکھیں بلکہ اپنا کام کرتے ہوئے گڈ گورننس کے ذریعے اس ملک کو مستحکم بنانے کی کوشش کریں۔ پاکستان کے عوام کے مابین اتحاد سے ملک سے نہ صرف دہشت گردی ختم ہوسکے گی بلکہ ملک آگے کی جانب رواں دواں ہوسکے گا۔ذرا سوچیئے!

.

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پاکستان کے عوام نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان کررہے ہیں کی وجہ سے عوام اور ہوسکے گا کی جانب کے ساتھ رہے ہیں ملک میں کرنے کی ملک کو اس ملک ہے ہیں سے ملک ہے اور

پڑھیں:

پی ٹی آئی رہنما کا موجودہ حالات پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ

اسلام آباد:

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی محمد خان نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اور موجودہ صورتحال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلا س بلانے کا مطالبہ کر دیا۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام سینٹر اسٹیج میں رہنما پی ٹی آئی  علی محمد خان  نے کہا ہے کہ حکومت  کو بانی پی ٹی آئی کو ساتھ لانا ہو گا، حکومت بانی پی ٹی آئی سمیت تمام جماعتوں کو انگیج کرے  میں خود بانی پی ٹی آئی سے بات کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ کہتے ہیں کہ حکومت والے فوری طور پر سعودی عرب سمیت دوست ممالک جائے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس فوری بلانا چاہیے، مطالبہ کرتا ہوں کہ  حکومت  کو آج رات یا کل  ہی  مشترکہ اجلاس  بلا لینا چاہیے تھا، میں  سمجھتا ہوں کہ  سب کو اس اجلاس میں شرکت کرنی چاہیے، میں حکومت کو کہوں گا کہ اجلاس بلائیں اور بانی پی ٹی آئی سمیت تمام جماعتوں کو انگیج کریں۔

اُن کا کہنا تھا کہ جب پاکستان پر بات آ جائے تو ہمیں متفقہ طور پر جواب دینا چاہیے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ قومی یکجہتی چاہیے تو حکومت  اپنی ذات سے نکلے۔ حکومت  کو بانی پی ٹی آئی کو ساتھ لانا ہوگا ، ایک تصویر آجائے  جس میں  بانی پی ٹی آئی وزیر اعظم شہباز شریف  اور  دیگر  ایک  ساتھ نظر آ جائیں، اگر یہ ایک تصویر آ جائے اور  بھارت دیکھ لے  تو بھارت کی جرات نہیں ہوگی، حکومت انگیج کرے  تو میں جا کر بانی پی ٹی آئی سے بات کرتا ہوں ۔

اُن کا کہنا تھا کہ حکومت کو قومی یکجہتی چاہیے تو سب کو انگیج کرے، یہ وقت  کھل کر مضبوط فیصلے کرنے کا ہے ،بھارتی  جارحیت کیخلاف  ہم سب ایک ہیں، اکیلے کوئی جنگ نہیں جیت سکتے ، ملک کو  تقسیم کر کے کوئی جنگ نہیں جیت سکتے، ہمیں پاکستانی بن کر جواب دینا ہے۔

انہوں  نے کہا کہ میرا لیڈر اس وقت جیل میں ہے ۔ رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ میرے لیڈر  نے کہا تھا کہ ہم جواب دینے کا سوچیں  گے نہیں بلکہ جواب دیں گے،پاکستان کے دفاع کے  پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ  قوم انتظار میں ہے کہ نواز شریف کا اس پر کیا جواب آتا ہے انہیں اس وقت خاموشی اختیار نہیں کرنی چاہیے اور کھل کر بات کرنی چاہیے۔

علی محمد خان کا کہنا تھا کہ سب کو ایک پیج پر ہونا چاہیے، ہم بھائی ہیں بھائی آپس میں لڑتے بھی ہیں ،لیکن جب ماں  پر بات آ جائے تو بھائی بھائی کے ساتھ کندھا ملا کر کھڑا  ہوتا ہے۔

علی محمد خان نے کہا کہ  حکومت والے دوست ممالک جائیں اُن کو موجودہ صورت حال پر انگیج کریں، سعودی عرب ، چین  جائیں اور روس بھی جانا پڑے تو جائیں۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ تنقید کا وقت نہیں ہے ، ہم مشورہ دینے کا حق رکھتے ہیں کہ اگر ہم حکومت میں ہوتے تو کیا کرتے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے جو کیا ہے وہ اچھا قدم ہے لیکن یہ  ردعمل ہے ، ہمیں پیشگی  اقدامات کرنے چاہیں تھے، ہمیں دشمن  کیخلاف تیار رہنا چاہیے تھا۔

علی محمد خان  نے مزید کہا کہ بھارت نے ہمارے ملک میں کئی دہشت گردی کے واقعات کیے، افغان طالبان نے کبھی پاکستان پر حملہ نہیں کیا،افغان طالبان  نہیں بلکہ ٹی ٹی پی  نے پاکستان  میں حملے کیے۔

متعلقہ مضامین

  • پاک افغان تعلقات میں نئے امکانات
  • پی ٹی آئی رہنما کا موجودہ حالات پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ
  • اگلے  دو تین دن تک بھاتی حملے کے لیے تیار رہنا چاہیے، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ غلام مصطفیٰ
  • گیس سے بجلی پیدا کرنے والی صنعتوں سے کیپٹو پاور لیوی کی وصولی روکنے کا حکم
  • پہلگام حملے کی مذمت کرنے پر مشی خان پاکستانی اداکاروں پر کیوں برس پڑیں؟
  • ہمیں تیار رہنا چاہیے بھارت کوئی بھی حرکت کرسکتا ہے،سابق سفیر عبدالباسط
  • نہروں کے معاملہ پر عوام میں تشویش، مسئلہ حل کرنے کی کوشش نہیں ہو رہی، شاہد خاقان
  • پہلگام حملہ: آئی پی ایل میں آتش بازی نہیں ہوگی، کھلاڑی سیاہ پٹیاں باندھیں گے
  • طعنہ نہ دیں، ہمارے ووٹوں سے صدر بنے ہیں، رانا ثناء کا بلاول کے بیان پر ردِ عمل
  • دہشت گردوں سے لڑنا نہیں بیانیے کا مقابلہ کرنا مشکل ہے، انوارالحق کاکڑ