Daily Ausaf:
2026-07-24@13:23:54 GMT

پیاری دنیا : یہ ہےفلسطین کا اتحاد!

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2025 GMT

ہم میں سے بہت سے لوگ جو فلسطین کی تاریخ میں فلسطینی عوام کی آواز،تجربے اور اجتماعی عمل کی اہمیت پرطویل عرصے سے زوردیتے رہے ہیں، وہ لوگ بھی غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں اٹھنے والے ثقافتی انقلاب سے ضرور چونک گئے ہوں گے۔ ثقافتی انقلاب سے میری مراد غزہ کی وہ باغی داستان ہے، جس میں لوگ صرف اسرائیلی جنگی بربریت کا شکار ہی نہیں ہوئے بلکہ عوامی مزاحمت میں ایک سرگرم حصہ دار کے طور پر بھی ابھر کر سامنے آئے ہیں۔
اسرائیلی نسل کشی کے 471 ویں دن جب جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تو غزہ میں فلسطینی جشن مناتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی کہ وہ جنگ بندی کا جشن منا رہے تھے، لیکن ان کے نعروں، گانوں اور علامتوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ درحقیقت وہ طاقتور اسرائیلی فوج (جسے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی حمایت حاصل رہی ہے اور رہے گی) کےخلاف اپنی اجتماعی فتح اور ثابت قدمی کا جشن منا رہے تھے۔ برق رفتاری کے ساتھ انہوں نے اپنی گلی کوچوں کو صاف کیا، تمام ملبہ ہٹایاتاکہ بےگھر افراد کی رسائی ان کے گھروں تک ممکن ہو سکے(اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کے 90 فیصد رہائشی یونٹس اسرائیلی بمباری سےتباہ وبربادہو چکے ہیں)۔ وہ ان تباہ شدہ گھروں میں واپسی پرخوش تھے کہ ملبے پر ہی سہی لیکن اپنے گھروں کے اندر تو موجود ہوں گے۔ اس موقع پرکئی جذباتی مناظر دکھائی دئیے،ہجوم میں سےکچھ نے دست دعا بلندکر رکھے تھے، کچھ گیت گا کر اپنی خوشی کا اظہار کر رہے تھے، اور کچھ آنکھوں میں نمی لئے عجیب کیفیات سے دوچارتھےکہ کوئی طاقت انہیں دوبارہ فلسطین سے اکھاڑ نہیں سکتی۔ سوشل میڈیا فلسطینیوں کے جذبات کی آمیزش سے بھرچکاتھا۔
جہاں تک بچوں کا تعلق ہے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینوں (UNRWA) کے مطابق ان میں سے 14500 اسرائیل کے ہاتھوں شہید ہو چکےہیں۔ واپس آنے والوں نے اپنا بچپن پھر سے شروع کیا ہے۔ یہ بچے رفح، بیت حنون اور دیگر جگہوں پر اسرائیلی ٹینکوں کےساتھ کھلونوں کی طرح کھیلتے اورانہیں تباہ کرنےکا دعویٰ کرتے دکھائی دیئے۔ ایک نوجوان اسکریپ میٹل سیلزمین بن کر اسرائیلی مرکاوا ٹینک برائے فروخت کی آوازیں لگاتا رہا اور جب اس کے دوستوں نے اسے فلمایا تو اس کا کہنا تھا کہ یقینی بنائیں کہ آپ یہ ویڈیو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو بھیجیں گے۔
خوشی کےاس اظہار کاہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ غزہ ناقابل تصور درد سے نہیں گزراہے، اس درد کا پوری طرح سے ادراک باقی دنیا کے لیےمشکل ہے۔ جنگ کے جذباتی اور نفسیاتی نشانات زندگی بھر رہیں گے، اور بہت سے لوگ اس صدمے سے کبھی بھی مکمل طور پر نکل نہیں پائیں گے لیکن غزہ کے باسی جانتے ہیں کہ وہ معمول کے غم کے متحمل نہیں ہو سکتے لہذا وہ غم پر قابو پا کر اپنی شناخت اور اتحاد پر زور دیتے ہیں۔ 7 اکتوبر، 2023 سے غزہ پر اپنے فوجی حملے میں اسرائیل نے فلسطینی عوام کو تقسیم کرنے اور ان کی روح کا شیرازہ بکھیرنے کے لئے بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔ غزہ میں اس نے بھوک سے مرتے پناہ گزینوں پرجنگی طیاروں سےلاکھوں کی تعداد میں بم گرائے۔ صہیونی فوج نے اپنے مغویوں سےمتعلق کسی بھی قسم کی معلومات کےحصول کے لیے بڑے انعامات کی پیشکش کی، لالچ دیئے لیکن قوم میں سےایک بھی غدار نہیں نکلا۔ مزاحمت کرنے والوں کو سزا دینے کے لیے اسرائیل نے منظم طریقے سے غزہ کے ان نمائندوں اور کونسلرز کو ہلاک کر دیا جنہوں نے غزہ بھر میں امداد تقسیم کرنے کی کوشش کی، خاص طور پر شمال میں جہاں قحط تباہ کن تھا۔ اس تباہی کے بعد جنگ بندی کا اعلان ہواتو فلسطینیوں نے بحیثیت ایک زندہ قوم کے اس کا بھرپورجشن بھی منایا۔ غزہ کی تباہی تو ہوئی لیکن اسرائیل کے ان اقدامات نے غزہ کی طبقاتی، علاقائی، نظریاتی اور سیاسی تقسیم کو ختم کر دیا، غزہ میں ہرکوئی پناہ گزین بن گیا۔ امیر، غریب، مسلمان، عیسائی، شہر کے باشندے اور پناہ گزین کیمپ کے رہائشی، سب یکساں طور پر متاثر ہوئے۔ جدید تاریخ کی سب سے ہولناک نسل کشی کے بعد غزہ میں جو اتحاد قائم ہوا ہے، اسے ایک بیدار کال کا کام کرناچاہیے۔ یہ بیانیہ کہ فلسطینی منقسم ہیں اور انہیں مشترکہ بنیاد تلاش کرنے” کی ضرورت ہے، غلط ثابت ہوئی ہے۔ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے جنین اور دیگر پناہ گزین کیمپوں کے خلاف اسرائیل کی جنگ میں مدد کے ساتھ، PA اور مختلف فلسطینی دھڑوں کے انضمام کے ذریعے سیاسی اتحاد کا پرانا تصور اب قابل عمل نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فلسطین کے سیاسی منظرنامے کی تقسیم کا مسئلہ محض سیاسی معاہدوں یا دھڑوں کے درمیان مذاکرات سے حل نہیں ہو سکتا۔ ایک مختلف قسم کا اتحاد پہلے ہی غزہ اور توسیعی طور پر مقبوضہ فلسطین اور باقی دنیا میں فلسطینی برادریوں میں جڑ پکڑ چکا ہے۔ یہ اتحاد ان لاکھوں فلسطینیوں میں نظر آتا ہےجنہوں نے جنگ کے خلاف مظاہرے کیے، غزہ کے لیے نعرے لگائے، غزہ کی مدد کے لیے پکارا، اور اس کے گرد ایک نیا سیاسی ڈسکورس تیار کیا۔ یہ اتحاد محض باتیں کرنے، عربی سیٹلائٹ چینلز پر یا مہنگے ہوٹلوں میں خفیہ ملاقاتوں پر انحصار نہیں کرتا۔ اسے سفارتی مذاکرات کی ضرورت نہیں ہے۔ برسوں کی لامتناہی بحثیں،اتحاد کی دستاویزات اور شعلہ بیان تقریریں صرف مایوسی کا باعث بنیں۔ حقیقی اتحاد حاصل کیاجا چکا ہے، عام لوگوں کی آوازوں میں محسوس کیا گیا ہے جو اب دھڑوں کے ارکان کے طور پر شناخت نہیں کرتے ہیں۔ وہ غزاویہ ہیں یعنی غزہ کے فلسطینی، اور کچھ نہیں۔ یہی حقیقی اتحاد ہے جسے اب ایک نئے مکالمے کی بنیاد بناناچاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: میں فلسطینی غزہ کی غزہ کے کے لیے

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق

مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آزاد کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے بڑی سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔

صدر استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس اور مسلم کانفرنس کے صدر سردارعتیق کی ملاقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔  آزاد کشمیر کے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کےبعد بھی مشترکہ حکمت عملی کےتحت آگےبڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔ طے پایا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی امیدواروں کی حمایت کا حتمی اعلان جلدکرے گی۔

لومئیربرادرز اپنی ایجاد پر بہت مسرور تھے، وہ جہاں بھی اپنا سینما لے کر جاتے لوگ ششدر رہ جاتے ، وہ یہ کھیل تماشہ لے کر ہندوستان بھی آئے تھے

دونوں قائدین نے  مسلح افواج اوراداروں کی مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔ ملاقات میں آئی پی پی کی جانب سے سردار امتیاز،سردارافتخار رشید اور سردارمنظور ایڈووکیٹ موجود تھے۔ سردارمحمود خان، سردار شجاع منگول، شبدیزصابر سمیت دیگر آئی پی پی رہنما بھی شریک ہوئے۔ جبکہ مسلم کانفرنس کے سردارعثمان عتیق،ڈاکٹرعرفان اشرف،سردارعفان عتیق،راجاعبدالجبار اور دیگر نے شرکت کی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مسجد شہید، قریبی مکانات بھی تباہ
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار