ڈمپر و ٹینکرز سے شہریوں کی اموات، ذمہ دار سند ھ حکومت و پولیس ہے،منعم ظفر
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2025 GMT
کراچی:امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفرخان نے گزشتہ روز راشد منہاس روڈ پر ملینئیم مال کے قریب تیز رفتار ڈمپر کی ٹکر سے جاں بحق ہونے والے کامران رضوی اور ان کی اہلیہ کی امام بارگاہ دربار حسینی برف خانہ ملیر میں ادا کی جانے والی نماز جنازہ میں شرکت کی اور ان کے اہل ِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔
منعم ظفر خان نے نماز جنازہ کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے تیز رفتار ڈمپر کی ٹکر سے شوہر اور بیوی کے جاں بحق ہونے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں ہیوی ٹریفک اور تیز رفتار ڈمپر و ٹینکرز کی ٹکر سے شہریوں کی اموات کی ذمہ دارسندھ حکومت اور پولیس ہے،قابض میئرمرتضیٰ وہاب ایڈیشنل آئی جی پولیس کوخط لکھ کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ مرتضیٰ وہاب سندھ حکومت کے ترجمان ہیں اور پولیس سندھ حکومت کے ماتحت ہے ،سندھ حکومت و محکمہ پولیس ڈمپرز اور ہیوی ٹریفک کو شہر میں نقل و حرکت کے اوقات کی پابندی کرانے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عدالتی احکامات کے مطابق ڈمپرز کے شہر میں صبح 7بجے سے رات گیارہ بجے تک نقل و حرکت پر پابندی کے باوجود شام 5بجے یہ اندوہناک حادثہ پیش آیا۔ حکومت،انتظامیہ اور پولیس کہاں ہیں؟
منعم ظفر خان کا کہنا تھا کہ کراچی کے شہریوں کو تیز رفتار ڈمپروں اور ٹینکروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے دوسری جانب ٹریفک قوانین کی پابندی یقینی بنانے کے لیے بھی عملاً شہر میں کوئی مؤثر نظام موجود نہیں، پولیس شہریوں بالخصوص موٹر سائیکل سواروں کو جگہ جگہ روک کر مال بنانے میں مصروف رہتی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ شہر میں گزشتہ 35 دن میں ڈمپر و ٹینکرز کی ٹکر سمیت 85 سے زائد ایسے واقعات اور حادثات ہوچکے ہیں، جن میں کئی لوگ اپنی جان سے چلے گئے ہیں،یہ ایک المیہ اور اہل کراچی کے ساتھ بڑاظلم ہے،لوگ کب تک اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔منعم ظفر خان نے کہا کہ ہم ملینئیم مال پر ہونے والے حالیہ حادثے سمیت دیگر متاثرہ خاندانو ں کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کے درجات بلند،لواحقین و پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تیز رفتار ڈمپر کی ٹکر کہا کہ
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔