امریکا نے ایران پر دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ایران پر نئی پابندیاں عائد کردیں، واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد ایران پر پہلی مرتبہ نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

جمعرات کو امریکی محکمہ خزانہ نے ان پابندیوں کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ ایران کے تیل کے نیٹ ورک کو نشانہ بنانے کے لیے لگائی گئی ہیں۔ یہ اقدامات ان کمپنیوں، بحری جہازوں اور افراد پر لاگو کیے گئے ہیں جو پہلے سے امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے اداروں سے منسلک ہیں۔

مزید پڑھیں: ایران کی فلسطینیوں کی نقل مکانی سے متعلق ٹرمپ کے منصوبے کی مذمت

سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں بھی امریکا ایسے اقدامات کرتا رہا تھا تاکہ پہلے سے عائد پابندیوں کو مؤثر بنایا جاسکے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک بیان میں یہ الزام عائد کیا کہ ایرانی حکومت تیل کی آمدنی سے نہ صرف اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھا رہی ہے بلکہ مہلک بیلسٹک میزائل اور ڈرون بنانے اور خطے میں دہشتگرد گروہوں کی حمایت کے لیے بھی استعمال کررہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ایسی تخریبی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔

محکمہ خزانہ کے مطابق، یہ نئی پابندیاں چین، بھارت اور متحدہ عرب امارات میں موجود افراد اور اداروں کو بھی شامل کرتی ہیں۔

واضح رہے کہ یہ پابندیاں ایک ایسے وقت میں لگائی گئی ہیں جب 2 روز قبل صدر ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے۔ یہ وہی پالیسی ہے جو انہوں نے 2018 میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کو ختم کرنے کے بعد اپنی پہلی مدت میں اپنائی تھی۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں

یہ معاہدہ 2015 میں طے پایا تھا، جس کے تحت ایران کو اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے میں اقتصادی پابندیوں سے نجات ملنی تھی۔

بائیڈن انتظامیہ نے اس معاہدے کو بحال کرنے کی کوشش کی، لیکن ایران کے ساتھ کئی دور کی بالواسطہ سفارتی بات چیت کے باوجود وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ اکتوبر 2023 میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد مذاکرات مزید تعطل کا شکار ہوگئے۔

ریپبلکن جماعت نے بائیڈن پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ایران پر عائد پابندیوں کو مؤثر طریقے سے نافذ نہیں کرسکے اور نہ ہی ایرانی تیل کی فروخت کو روکا جاسکا۔

اب ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت امریکی حکام کو پابندیوں کا جائزہ لے کر انہیں مزید سخت بنانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ایران کی تیل کی برآمدات کو مکمل طور پر صفر تک لایا جاسکے۔

مزید پڑھیں: کیا صدر ٹرمپ امریکا کو تنہا اور کمزور بنا رہے ہیں؟

ایک طرف ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے اقدامات اٹھائے ہیں تو دوسری جانب انہوں نے تہران کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ بھی کھلا رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

منگل کو صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر نے کہا وہ چاہتے ہیں کہ ایران ایک عظیم اور کامیاب ملک بنے، مگر ساتھ وہ ایسا بھی ملک بھی ہو جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔

امریکی پابندیوں پر ایران کا مؤقف ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کررہا، لیکن امریکی پابندیوں کے جواب میں تہران یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کررہا ہے، جو ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے بنیادی عنصر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: نئی پابندیاں نے ایران پر کے لیے

پڑھیں:

وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم

سٹی 42: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی ترقی اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبوں میں اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر غور کیا گیا۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اور دیرپا پالیسی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

وزیراعظم نے کہا کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات عوامی فلاح اور طویل المدتی معاشی استحکام پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ انہوں نے متبادل توانائی کے ذرائع کے فروغ اور مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں متعارف کرانے کے لیے وزارتوں اور ماہرین کے درمیان مؤثر مشاورت یقینی بنائی جائے۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار