ریگولیٹری اصلاحات پرا سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا آغاز کردیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT
کراچی (کامرس رپورٹر) اسٹا ک مارکیٹ کی رپورٹ کے مطابق سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)نے میوچل فنڈز ایسوسی ایشن آف پاکستان ( ایم یو ایف اے پی )، ایسیٹ مینجمنٹ کمپنیوں ( اے ایم سیز) اور پنشن فنڈ منیجرز کے سینئر عہدیداران کے ساتھ ایک جامع مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس کا بنیادی ایجنڈا نان بینکنگ فنانس کمپنیز اینڈ نوٹیفائیڈ اینٹٹیز ریگولیشنز 2008 میں مجوزہ ترامیم پر تبادلہ خیال کرنا تھا جس میں خاص طور پر ریٹیل سرمایہ کاروں کے لئے لاگت میں کمی پر توجہ مرکوز کی گئی۔ایس ای سی پی کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق اجلاس کی صدارت چیئرمین ایس ای سی پی نے کی۔ اس کے ساتھ سپیشلائزڈ کمپنیز ڈویڑن کے کمشنر، نگران ڈویڑن کے کمشنر اور فنڈ مینجمنٹ، پنشن ڈویڑن کے سینئر حکام نے شرکت کی۔ایس ای سی پی نے اس سے قبل ایک مشاورتی دستاویز کے ذریعے عوامی آراء طلب کی تھیں جس کا مقصد اخراجات اور تقسیم کے نظام کو از سرِ نو ترتیب دے کر سرمایہ کاروں کی لاگت کو کم کرنا، بچت کے رجحان کو فروغ دینا، منافع کو بہتر بنانا اور کیپٹل مارکیٹس میں ریٹیل سرمایہ کاروں کی شمولیت کو بڑھانا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایس ای سی پی
پڑھیں:
اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات کار میں توسیع کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، یہ فیصلہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے کفایت شعاری سے متعلق اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں طے پایا کہ اسلام آباد میں دکانیں اور شاپنگ مالز اب رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ شادی ہالز کو رات 10 بجے تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔
اسی طرح ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں بھی نرمی کرتے ہوئے انہیں رات 11 بجے تک کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز کو مقررہ اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ فارمیسیوں، اسپتالوں اور پیٹرول پمپس کو ان پابندیوں سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا اور وہ معمول کے مطابق اپنی خدمات جاری رکھ سکیں گے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نئے اوقات کار کا مقصد توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے، جبکہ اس فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق مزید ہدایات جلد جاری کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں۔ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟