انسدادِ پولیو مہم: 4 دن میں 4 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلائے گئے، وزارت صحت
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT
2025 کی پہلی قومی انسدادِ پولیو مہم ملک بھر میں جاری ہے۔ ابتدائی 4 دن میں 4 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گیے ہیں۔
ترجمان وزارت صحت کے مطابق قومی پولیو مہم 9 فروری تک جاری رہے گی، والدین سے درخواست پولیو مہم کے دوران بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں۔
کوآرڈینیٹر برائے صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا ہے کہ پولیو ورکرز قوم کے ہیروز ہیں، ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں عوام حکومت کا بھر پور ساتھ دے۔ والدین اور سول سوسائیٹی کی مدد کے بغیر یہ جنگ نہیں جیت سکتے۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ: بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار پر 5 افراد گرفتار
ڈاکٹر مختار بھرتھ کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پولیو کے خاتمے کا پختہ عزم کر رکھا ہے۔ پولیو کے خاتمے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت کام جاری ہے۔ ملک سے پولیو کے خاتمے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز سنجیدہ اقدامات کو یقینی بنا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہائی رسک علاقوں پر خصوصی حکمت عملی کے زریعے اقدامات جاری ہیں۔ وزیراعظم کی ہدایت پر بلوچستان میں مہم کا جائزہ لینے کے لیے فیلڈ کا دورہ کیا۔ حکومتِ پاکستان پولیو ورکرز کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ آئیے پولیو وائرس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان پولیو پولیو ورکرز ڈاکٹر مختار بھرتھ قومی انسداد پولیو مہم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان پولیو پولیو ورکرز قومی انسداد پولیو مہم پولیو کے خاتمے پولیو مہم بچوں کو کے لیے
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔