پی ٹی آئی کا یوم سیاہ مہنگائی میں کمی یا سٹاک مارکیٹ کی بہتری کیخلاف تھا؟ وزیر اطلاعات
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا یوم سیاہ بری طرح ناکام ہوگیا اور ایک آدمی بھی باہر نہیں نکل سکا۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ خیبرپی کے میں یوم سیاہ کس کے خلاف تھا، مہنگائی میں کمی کے خلاف یا پھر سٹاک مارکیٹ بہتر ہوئی ہے، اس لیے یوم سیاہ منایا۔ انہوں نے پی ٹی آئی سے سوال کیا کہ کیا خیبر پی کے میں یوم سیاہ خیبر پی کے حکومت کی پالیسی کے مطابق تھا، پی ٹی آئی کے یوم سیاہ پر ایک آدمی باہر نہیں نکل سکا اور میں نے ایک یونین کونسل میں جلسہ کیا جتنی کرسیاں اس جلسہ میں تھیں اتنے لوگ پوری پی ٹی آئی یوم سیاہ پر نہ لا سکی۔ بعد ازاں، مسلم لیگ (ن) کے مرکزی آفس میں وفات پانے والے کارکنان کی دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ اگر کارکنان ہماری قوت نہ بنتے تو ہماری پہچان نہ بنتی، آج ہمارے لئے غم کی گھڑی ہے، عشروں تک پارٹی کی خدمت کرنے والے کارکنان چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کارکنوں کا جذبہ اور کاوش سے ہی پارٹیاں زندہ رہتی ہیں، اگر کارکنان آواز نہ اٹھاتے تو خزاں کے بعد بہار نہ آتی۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ کارکنان سے کہتا ہوں ایسی کمیٹی بنائی جائے جس میں نہ کوئی ایم این اے ہو نہ کوئی ایم پی اے ہو اور وہ کارکنان کی خدمت پر ڈیٹا اکٹھا کرے۔ دعائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے کارکنوں کو نہیں بھولنا چاہیے، جنہوں نے اپنی زندگیاں پارٹی کے نام کر دیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی یوم سیاہ
پڑھیں:
قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی،
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔
عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔
آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی