رمضان المبارک میں مسجدِ نبوی ﷺ میں افطار کیلئے نئے قوانین متعارف
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT
مدینہ منورہ ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 فروری 2025ء ) سعودی عرب نے مسجدِ نبوی ﷺ میں رمضان المبارک کے دوران افطار فراہم کرنے والوں کے لیے نئے قوانین متعارف کروا دیئے جن کے تحت پیشگی اجازت نامہ لینا لازمی ہوگا۔ عرب میڈیا کے مطابق جنرل اتھارٹی برائے حرمین شریفین نے افطار فراہم کرنے کے خواہش مند افراد اور اداروں کے لیے ایک آن لائن پورٹل متعارف کرایا ہے، اس پورٹل کے ذریعے روزہ داروں کو افطاری کرانے کی سعادت حاصل کرنے کے خواہش مندوں کا اندراج کیا جائے گا، اتھارٹی کی منظور شدہ کمپنیوں اور افراد کو ہی افطاری کرانے کے اجازت ہوگی، جن کی باضابطہ فہرست بھی شائع کی جائے گی۔
نئے قوانین میں کہا گیا ہے کہ افطار کرانے والے بنیادی مینیو میں 2 اضافی اشیاء شامل کر سکیں گے، بنیادی اشیاء میں کھجور، روٹی، دہی، رول اور پانی شامل ہیں جب کہ اضافی اشیاء میں گری دار میوے، کپ کیک، پائی، مامول (بسکٹ کی ایک قسم)، کریم یا بھری ہوئی کھجوروں کے آپشن دیئے گئے ہیں، متلعقہ سعودی اتھارٹی نے سروس فراہم کرنے والوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سروس کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اپنا ڈیٹا لازمی اپ ڈیٹ کریں۔(جاری ہے)
اس حوالے سے اتھارٹی برائے حرمین شریفین کا کہنا ہے کہ سروس جاری رکھنے کے لیے ڈیٹا اپ ڈیٹ کرنا لازمی ہے، اس کے ساتھ منظور شدہ کیٹرنگ کمپنیوں سے معاہدہ کرنا اور افطار سروس کے رہنما اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہے، منظور شدہ کمپنیوں کی فہرست معاہدوں کو حتمی شکل دینے اور الیکٹرانک پرمٹ جاری کرنے کے لیے ڈیٹا اپ ڈیٹ کے بعد فراہم کی جائے گی، اس ڈیٹا کے حاصل ہونے سے افطاری کے انتظامات کو بہتر بنانے کا موقع ملے گا، افطاری کروانے والوں کے اندراج سے افطاری کو منظم اور باوقار انداز سے تکمیل کو پہنچایا جا سکے گا، ہجوم و بے نظمی اور کھانے پینے کی اشیاء کے ضائع ہونے سے بچا جا سکے گا۔ اتھارٹی نے کیٹرنگ فرموں سے بھی کہا ہے کہ وہ مسجد نبوی میں افطار کے کھانے کی فراہمی کے سلسلے میں ایک کوآرڈینیٹر سے رابطہ کریں، کیٹرنگ کمپنیوں کے لیے ضروری ہے کہ ان کا مدینہ منقرہ سے تعلق ہو اور وہ حج و عمرہ کے لیے کیٹرنگ کنٹریکٹرز کے طور پر رجسٹرڈ ہوں، کمپنی کے پاس ریفریجریٹڈ کھانوں کی نقل و حمل کے لیے کم از کم تین لائسنس یافتہ اچھی طرح سے لیس گاڑیوں کی فراہمی کے ساتھ پیکنگ کے لیے بھی مخصوص جگہیں ہوں، کمپنی کے پاس اچھی تربیت یافتہ اہلکاروں کے ساتھ کیٹرنگ کے شعبے میں معیار اور تجربے کا سرٹیفکیٹ ہونا چاہیے، اس بات کا ثبوت فراہم کرنا چاہیے کہ اس کا ریکارڈ گزشتہ دو سالوں میں خلاف ورزیوں سے پاک ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی