Jasarat News:
2026-06-03@02:44:19 GMT

حکومت کا مالی ٹرانزیکشنز کی نگرانی بڑھانے کا فیصلہ

اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2025 GMT

حکومت کا مالی ٹرانزیکشنز کی نگرانی بڑھانے کا فیصلہ

اسلام آباد:حکومت نے ایسی مالی ٹرانزیکشنز کی نگرانی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ظاہر کی گئی آمدن سے زیادہ ہوں گی۔ ممکنہ اقدام کا مقصد  ٹیکس دہندگان کی شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ اس سلسلے میں ایف بی آر بینکوں کے ساتھ مل کر ایک نئی حکمت عملی اپنانے جا رہا ہے تاکہ آمدن اور مالیاتی ٹرن اوور کے درمیان ہم آہنگی برقرار رکھی جا سکے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ظاہر کی گئی آمدن سے زیادہ مالیت کی ٹرانزیکشنز کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے بینکوں کے ساتھ ڈیٹا شیئر کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے بینکوں کو ٹیکس دہندگان کے شناختی کارڈ کی بنیاد پر ان کی آمدن اور ٹرانزیکشنز کا ڈیٹا فراہم کرنے کی ہدایت دی جائے گی اور اگر بینک کی جانب سے رپورٹ ہونے والی ٹرانزیکشن کا حجم ایف بی آر کے ڈیٹا سے مطابقت نہیں رکھے گا تو اسے ایف بی آر کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔

چیئرمین ایف بی آر نے مزید کہا کہ بینکوں سے کہا جائے گا کہ وہ ٹرانزیکشنز روکنے کے بجائے ان کی رپورٹ ایف بی آر کو فراہم کریں۔ اس طرح مالیاتی ٹرانزیکشنز میں شفافیت کو بڑھایا جائے گا اور غیر قانونی یا مشتبہ سرگرمیوں کا بروقت پتا چلایا جا سکے گا۔

اجلاس کے دوران مسلم لیگ ن کے رہنما بلال اظہر کیانی نے جائیداد خریداری کے حوالے سے اہم وضاحتیں پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ نان فائلرز کے لیے قانون میں یہ تبدیلی رکھی گئی ہے کہ وہ پہلی بار مکان خریدنے کے قابل ہوں گے بشرطیکہ انہوں نے اپنے ٹیکس گوشواروں میں آمدن ظاہر کی ہو۔ اس کے علاوہ ٹیکس دہندگان کو اپنے والدین اور بچوں کے لیے جائیداد خریدنے کی اجازت ہوگی بشرطیکہ وہ نقد رقم یا مساوی اثاثوں کی بنیاد پر خریداری کریں۔

کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر نے اس بات کا سوال اٹھایا کہ اثاثوں کی تعریف میں اس تبدیلی کو کیوں شامل کیا گیا؟ جس پر چیئرمین ایف بی آر نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کا مؤقف تھا کہ شفافیت بڑھانے کے لیے اثاثوں کی اس نئی تعریف کو شامل کیا جائے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات حکومت کی جانب سے ٹیکس دہندگان کی سرگرمیوں میں شفافیت اور کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ مالیاتی اداروں میں غیر قانونی ٹرانزیکشنز کا قلع قمع کیا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ٹیکس دہندگان ایف بی آر جائے گا کے لیے کیا جا

پڑھیں:

طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم