Jasarat News:
2026-07-24@14:34:43 GMT

بیکن ہاؤس جوبلی کیمپس ماڈل اقوام متحدہ کا 6سال بعد آغاز

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT

بیکن ہاؤس جوبلی کیمپس ماڈل اقوام متحدہ کا 6سال بعد آغاز

کراچی(اسٹاف رپورٹر) بیکن ہاؤس جوبلی کیمپس ماڈل اقوام متحدہ (ایم یو این) چھ سال کے طویل عرصے کے بعد ایک بار پھر جوش و خروش کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ رواں سال اس پروگرام میں نوجوان سفارتکاروں کو اکٹھا گیا، جنہیں عالمی رہنماؤں کی ذمہ داری سونپی گئی، اب وہ اہم عالمی مسائل پر فعال انداز سے مباحثوں میں شرکت اور اہم عالمی مسائل پر مذاکرات کر سکیں گے۔

کراچی بھر سے آنے والے مندوبین کے ہمراہ اس سال ماڈل یونائیٹڈ نیشنز (ایم یو این) میں چھ کمیٹیوں نے حصہ لیا، جن میں سے ہر کمیٹی نے مندوبین کو سفارتکاری، مسائل کو حل کرنے اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا منفرد مواقع فراہم کیا۔ ان کمیٹیوں میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی)، انسانی حقوق کونسل (ایچ آر سی)، سیاسی اور جوہری امور (پی این اے)، سماجی، ثقافتی اور انسانی ہمدردی کی کمیٹی (ایس او سی ایچ یو ایم)، اسپیشل پولیٹیکل اینڈ ڈی کولونائزیشن کمیٹی (ایس پی ای سی پی او ایل) اور تخفیف اسلحہ اور بین الاقوامی سلامتی کمیٹی (ڈی آئی ایس ای سی) شامل ہیں۔

مندوبین نے بین الاقوامی امن و سلامتی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، تخفیف اسلحہ اور موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ ماڈل اقوام متحدہ نوجوان ذہنوں کے لئے ایک غیر معمولی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے تاکہ وہ بین الاقوامی تعلقات سے متعلق گہری آگہی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنے اندر مجمع سے خطاب، مذاکراتی اور قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دے سکیں۔

افتتاحی تقریب میں سرپرست اعلیٰ محترمہ تابندہ رضا نے متاثرکن انداز سے ماڈل اقوام متحدہ (ایم یو این) کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، ” اقوام متحدہ کی ماڈل کانفرنسز نوجوانوں کو عالمی مسائل سے نمٹنے، تنقیدی سوچ کو فروغ دینے اور اپنی سفارتی صلاحیتوں کو نکھارنے کا ایک منفرد موقع فراہم کرتی ہیں۔ مستقبل کے رہنماؤں کی حیثیت سے، ان کے لئے بین الاقوامی تعلقات کی پیچیدگیوں، تعاون کی اہمیت اور موثر رابطوں کی ضرورت کو سمجھنا ضروری ہے۔

ماڈل اقوام متحدہ کے ذریعے، ہم اپنے نوجوانوں کو سرگرم عالمی شہری بننے کے لئے بااختیار بناتے ہیں، جو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے تیار ہوں۔”تابندہ رضا نے مزید کہا، ” آج جب ہم یہاں جمع ہو رہے ہیں تو میں آپ سب سے اپیل کرتی ہوں کہ سفارتکاری کے رستے پر چلیں، مختلف طرح کے نقطہ نظر کا جائزہ لیں اور عالمی مسائل کے جدید حل تلاش کرنے میں اشتراک قائم کریں۔ یاد رکھیں، ہماری دنیا کا مستقبل آپ کی پیچیدہ مسائل کو حل کرنے، اختلافات پر قابو پاکر لوگوں کو جوڑنے اور ہمدردی و حکمت کے ساتھ رہنمائی کی صلاحیتوں پر منحصر ہے۔

اس سال تقریب کے انعقاد میں بیکن ہاؤس جوبلی کیمپس کی ہیڈ مسٹریس محترمہ حمیرا خالد نے بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ ان کی غیر متزلزل لگن اور جوش و خروش نے ایونٹ کی کامیابی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔حمیرا خالد کی زیر قیادت نہ صرف مندوبین کو بے پناہ تعاون پیشکش کیا گیا بلکہ انہوں نے بین الاقوامی سفارتکاری میں جذبے اور عزم کی اہمیت پر زور دینے کے ساتھ ذاتی طور پر ٹیم کی حوصلہ افزائی بھی کی۔ سیکرٹری جنرل اور صدر کی جانب سے انتہائی دلچسپ مباحثوں کے آغاز کی تیاری کی گئی، وہ بلاشبہ بہترین کارکردگی کے وژن کو آگے بڑھائیں گے۔ ان کی قیادت اور ماڈل اقوام متحدہ کی ٹیم کی انتھک کاوشیں کی بدولت خیالات کے حیران کن انداز سے تبادلے کی راہ ہموار ہوگی، کیونکہ مندوبین ان مباحثوں میں ایسے قابل عمل خیالات کو مستقبل کی نئی شکل دیں گے۔

اختتامی تقریب سب کی کامیابیوں کو سراہنے اور حوصلہ افزائی کا شاندار جشن تھا۔ بیکن ہاؤس جوبلی کیمپس- ماڈل اقوام متحدہ (چھٹی بار) میں سفارتکاری کی شاندار واپسی کا وعدہ کیا گیا، جہاں جدت، اشتراک اور پرجوش مباحثے مستقبل کے رہنماؤں کو نمایاں انداز سے دنیا کو روشناس کرائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ماڈل اقوام متحدہ بین الاقوامی عالمی مسائل کے ساتھ کے لئے

پڑھیں:

فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا

بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کے سرغنہ جیفری ایپسٹین کی طرح اس کا مبینہ ساتھی اور فرانسیسی ماڈل اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس میں ماڈل ڈینیئل سیاد کے خلاف جنسی زیادتی، انسانی اسمگلنگ اور خواتین کو دھوکے سے جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں شامل کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری تھیں تاہم ان پر ابھی تک باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔

فرانس میں مردہ پائے گئے ماڈل اسکأٹ ڈینیئل سیاد کی موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب متعدد خواتین کو جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں پھانسنے اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق سنگین الزامات کی تحقیقات جاری تھیں۔

فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے کولومب میں واقع ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی۔ موت کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ فرانزک ٹیسٹس بھی کرائے جائیں گے تاکہ موت کی وجہ معلوم کی جاسکے۔

ڈینیئل سیاد پر الزام تھا کہ وہ ماڈلنگ کے شعبے سے وابستہ نوجوان خواتین کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کراتا تھا۔

متعدد متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ سیاد نے انہیں ایپسٹین سے ملوایا جس کے بعد وہ مبینہ طور پر جنسی استحصال کا شکار ہوئیں۔

سیاد کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر پوسٹ مارٹم سے دل کا دورہ موت کی وجہ ثابت ہوتا ہے تو اس میں کئی برسوں سے جاری قانونی دباؤ، ذہنی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔

ایپسٹین کیس سے منسلک متعدد خواتین نے ڈینیئل سیاد کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گواہی سے اس پورے نیٹ ورک کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے آ سکتی تھیں۔

سابق فرانسیسی ماڈل جولیٹ نے دعویٰ کیا کہ 2004 میں سیاد نے ان کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ تک پہنچنے اور اس نیٹ ورک کے تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کی ایک اہم کڑی ختم ہوگئی۔

اسی طرح سابق سویڈش ماڈل ایبّا کارلسن نے بھی اس امید پر رواں برس فروری میں سیاد کے خلاف شکایت درج کرائی تھی کہ جلد گرفتاریاں ہوں گی اور انصاف ملے گا لیکن ان کی اچانک موت سے یہ امید کمزور پڑگئی ہے۔

خیال رہے کہ ماڈل سیاد کا اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انھیں ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں کا علم نہیں تھا اور خود بھی وہ اس کے دھوکے کا شکار ہوئے۔

ڈینیئل سیاد کے وکیل مینیا عرب ٹیگرین کا کہنا تھا کہ فرانسیسی تفتیش کاروں نے ابھی تک سیاد سے باقاعدہ پوچھ گچھ نہیں کی تھی لیکن وہ اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے تیار تھے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق امریکی عدالت کی جانب سے جاری کی گئی تقریباً دو ہزار سے زائد دستاویزات میں بھی ڈینیئل سیاد کا نام سامنے آیا تھا۔

ان دستاویزات میں مبینہ طور پر بتایا گیا کہ سیاد مختلف ممالک کے دوروں کے دوران خواتین کی تصاویر اور معلومات ایپسٹین کو بھیجتے تھے۔

2014 کی ایک ای میل جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنی تھی اس میں سیاد نے اپنی سرگرمیوں کو ماہی گیری سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ بعض اوقات شکار آسانی سے مل جاتا ہے اور بعض اوقات ایک بھی مچھلی ہاتھ نہیں آتی۔

استغاثہ نے اس زبان کو خواتین کی تلاش سے تعبیر کیا جبکہ سیاد نے اس کی مختلف تشریح پیش کی تھی۔

یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جیفری ایپسٹین سے وابستہ کسی اہم شخصیت کی موت نے سوالات کو جنم دیا ہو وہ خود 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے جہاں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کر رہے تھے۔

امریکی حکام نے جیفری ایپسٹین کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا تاہم اس پر آج بھی مختلف سوالات اور سازشی نظریات زیرِ بحث رہتے ہیں۔

اسی طرح ایک اور فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ اور ایپسٹین کے قریبی ساتھی ژاں لوک برونیل بھی 2022 میں پیرس کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ حکام نے ان کی موت کو بھی خودکشی قرار دیا تھا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری