جنوبی افریقی بیٹر میتھیو بریٹز اور شاہین شاہ گرما گرمی کے بعد دوست بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT
کراچی:
جنوبی افریقہ کے میتھیو بریٹز اورپاکستان کے شاہین شاہ گرما گرمی کے بعد دوست بن گئے۔
سہ فریقی کرکٹ سیریز کے میچ کے بعد نیشنل اسٹیڈیم میں رضوان مکسڈ زون میں گفتگو کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کے کرکٹر نے کہا کہ کھیل کے دوران واقعات پیش آجاتے ہیں۔
میرا شاٹ مس ہوا تو میں خود سے ہم کلام ہوا، شاہین شاہ آفریدی سمجھے کہ میں نے انہیں کچھ کہا ہے جس کی وجہ سے تھوڑی سی تلخ باتیں ہوگئیں،تاہم میچ کے اختتام پر ہم نے ملاقات کی اور اب ہم دوست ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سہ فریقی سیریز، پاکستان اور جنوبی افریقا کے کھلاڑیوں میں گرما گرمی کی ویڈیوز سامنے آگئی
میتھیو بریٹزنے مزید کہا کہ ہم نے اچھے رنز کیے تھے، لیکن ہم نے بولنگ اچھی نہیں کی اور ہمارے بالرز ایک بڑے اسکور کا دفاع نہیں کر سکے، ہم نے اسٹمپس میں بولنگ نہیں کی، پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان محمدرضوان اور سلمان علی آغا نے بہت اچھی بیٹنگ کی، انہوں نے کہا کہ سینچری نہ کرنے کا افسوس ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سی پیک اتھارٹی کی بلٹ پروف گاڑی خریدنے کی منظوری
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چین پاکستان اکنامک کاریڈور (سی پیک) سیکریٹریٹ نے چینی شہریوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے 95 ملین (9 کروڑ 50 لاکھ) روپے کی لاگت سے ایک بلٹ پروف گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ اس کے مطابق کابینہ ڈویژن اس کی فوری ضروریات پوری کرنے سے قاصر تھی جس کی وجہ سے اہم سرکاری مصروفیات منسوخ کرنا پڑیں۔
یہ نئی ٹویوٹا لینڈ کروزر 3500 سی سی گاڑی پہلے سے موجود ایسی گاڑیوں کے پول اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جو مختلف سرکاری محکموں نے حملوں کی زد میں آنے والے چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے یا تو خریدی ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔ زیادہ خطرات کی وجہ سے چینی شہریوں کو بغیر بلٹ پروف گاڑیوں میں سفر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال نے کہا کہ یہ بلٹ پروف گاڑی صرف چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے خریدی جا رہی ہے، جن کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
الخدمت فاؤنڈیشن کا بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہنگامی اجلاس، ملک بھر میں 46 ایمرجنسی رسپانس سینٹرز قائم
حکومت پبلک پروکیورمنٹ رولز کے رول 42-سی (vii) کا نفاذ کرتے ہوئے مقامی اسمبلر کے ڈیلر سے براہ راست معاہدے کے ذریعے یہ گاڑی خریدے گی۔سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی خریدنے کے لیے مطلوبہ فنڈز موجود نہیں تھے۔ وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 58.3 ملین روپے منتقل کرکے 30 جون تک آرڈر دینے کا انتظام کیا تھا۔ تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوریوں میں تاخیر کی وجہ سے آرڈر نہیں دیا جا سکا۔
مزید :