آئی فون کی نئی ڈیوائس کی لانچ سے متعلق بڑی خبر!
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2025 GMT
بلومبرگ سے تعلق رکھنے والے مارک گرمن نے تازہ ترین بیان میں کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنی ایپل اپنی فلیگ شپ ڈیوائس آئی فون ایس ای 4 آئندہ ہفتے متعارف کرائے گی۔
گزشتہ روز یعنی بدھ کو گُرمن کی جانب سے کی گئی ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ نیا آئی فون ایس ای 4عنقریب متعارف کرایا جانے والا ہے اور آئندہ ہفتے تک جب کمپنی کی جانب سے بریفنگ کی جائے گی، اس کا اعلان کر دیا جانا چاہیئے۔ جمعرات کو ایک چھوٹا سا اعلان ہوگا جبکہ جمعے کو ایپل ویژن پرو کے نمائندے ایک اعلان کے حوالے سے پریس کانفرنس کریں گے۔
New iPhone SE is still imminent and should be announced by next week, when the company is holding product briefings.
دلچسپ بات یہ ہے کہ مارک گرمن نے اپنے ٹویٹ مین آئی فون ایس ای 4 کے لانچ ایونٹ کا ذکر نہیں کیا ہے، تو عین ممکن ہے ڈیوائس کے متعلق باقاعدہ طور پر ایک پریس ریلیز سے آگاہ کیا جائے۔
آئی فون ایس ای 4 کے متعلق عرصے سے بتایا جا رہا ہے کہ یہ آئی فون 14 سے مشابہ ہوگا۔ اس میں 6.06 انچ کی ایف ایچ ڈی+ ایل ٹی پی ایس او ایل ای ڈی اسکرین 60 ہرٹز ریفریش ریٹ کے ساتھ ہوگی اور فون کے سامنے چہرے کی شناخت کے لیے ایک نوچ اور کیمرا ہوگا۔
واضح رہے فون میں اے 18 چپ، 8 جی بی ریم، 48 میگا پکسل کیمرا اور 12 میگا پکسل سیلفی کیمرا کی شمولیت بھی متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ا ئی فون ایس ای
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔