بالی ووڈ میں پاکستانی فنکاروں کے داخلے پر پابندی کس نے لگائی؟ فلم ’صنم تیری قسم‘ کے ڈائریکٹر بول پڑے
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2025 GMT
مشہور بالی ووڈ فلم ’صنم تیری قسم‘کی دوبارہ ریلیز کے بعد ایک بار پھر اس کی مقبولیت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ فلم باکس آفس پر شاندار کامیابی حاصل کر رہی ہے۔
فلم کے ڈائریکٹر وینے سپرو نے بھارتی میڈیا سے فلم ’صنم تیری قسم‘ کی شاندار کامیابی اور بھارت میں پاکستانی اداکاروں پر عائد پابندی کے حوالے سے کھل کر اظہار خیال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ’آپ کمال ہو‘، بالی ووڈ اداکارہ ودیا بالن نے ماورا حسین کی تعریف کیوں کی؟
گفتگو کے دوران انہوں نے پاکستانی اداکاروں پر پابندی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ممکنہ طور پر کسی مضبوط وجہ کی بنیاد پر کیا گیا ہو گا۔ جنہوں نے یہ پابندی عائد کی، ان کے پاس اس فیصلے کے حوالے سے اپنی منطق اور دلائل ہوں گے کیونکہ یہ حکومت کا فیصلہ تھا۔
واضح رہے کہ بھارت نے 18 ستمبر کو کشمیر میں اڑی فوجی اڈے پر ہونے والے حملے کے بعد پاکستانی فنکاروں پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سلسلے میں انڈین موشن پکچرز پروڈیوسرز ایسوسی ایشن (آئی ایم پی پی اے) نے پاک۔ بھارت کشیدگی کے پیش نظر پاکستانی فنکاروں اور ٹیکنیشنز پر بالی ووڈ میں کام کرنے پر پابندی عائد کردی تھی۔ اور ہندو انتہا پسند گروہوں نے بھی بالی ووڈ میں کام کرنے والے پاکستانی اداکاروں کو دھمکی دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ہانیہ عامر بالی ووڈ سے کام کی پیشکش قبول کریں گی لیکن کس شرط پر؟
ہندو گروپ ایم این ایس نے پاکستانی فنکاروں کو بھارت سے نکل جانے کا کہا تھا جس کے بعد پاکستانی فنکار وطن واپس آگئے تھے۔
پابندی سے پہلے کئی پاکستانی فنکاروں نے بالی ووڈ میں کامیابی حاصل کی۔ جن میں فواد خان اور ماہرہ خان بھی شامل ہیں۔ فواد خان نے ’کپور اینڈ سنز‘ اور ’اے دل ہے مشکل‘ میں اپنی اداکاری سے ناظرین کو متاثر کیا، ماہرہ خان نے شاہ رخ خان کے ساتھ ’رئیس‘ میں اداکاری کی جبکہ علی ظفر نے ’تیرے بن لادن‘ اور ’ڈیئر زندگی‘ میں اپنی پہچان بنائی۔
یہ بھی پڑھیں: بالی ووڈ اسٹار عامر خان نے میرا شو کاپی کیا، حنا بیات کا الزام
پاکستانی گلوکاروں جن میں عاطف اسلم، راحت فتح علی خان اور شفقت امانت علی نے کئی ہٹ گانے دیے۔ تاہم سیاسی کشیدگیوں کے نتیجے میں بالی ووڈ میوزک میں ایک قابلِ ذکر خلا پیدا ہو گیا۔
واضح رہے کہ فلم ’صنم تیری قسم‘ کو ری ریلیز کیا گیا ہے۔ یہ فلم 2016 میں ریلیز کی گئی تھی تاہم یہ باکس آفس پر بزنس کرنے میں ناکام رہی تھی۔
فلم کی دوبارہ ریلیز نے غیر معمولی طور پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس نے صرف بھارت میں 5 دنوں میں 25.
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
صنم تیری قسم عاطف اسلم علی ظفر فواد خان ماہرہ خان ماورا حسین
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: صنم تیری قسم علی ظفر فواد خان ماہرہ خان ماورا حسین پاکستانی فنکاروں صنم تیری قسم بالی ووڈ میں پر پابندی
پڑھیں:
نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
فرحت اشتیاق کے مقبول ناول ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پر مبنی پاکستان کی پہلی نیٹفلکس اوریجنل سیریز کی ریلیز سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے۔
’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پہلی بار 2009 میں خواتین ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوا تھا، جس کے بعد 2013 میں اسے کتابی صورت میں بھی شائع کیا گیا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق اس پر مبنی نئی سیریز کو 2026 کے اختتام تک نیٹ فلکس پر ریلیز کیا جائے گا۔
اگرچہ اس سے قبل کئی کامیاب پاکستانی ڈرامے ٹی وی پر نشر ہونے کے بعد نیٹ فلکس پر دستیاب کیے جا چکے ہیں، تاہم ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ہو گی، جسے ہم ٹی وی اور نیٹ فلکس کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔
سیریز کی کاسٹ میں ماہرہ خان، فواد خان، بلال اشرف، حمزہ علی عباسی، ہانیہ عامر، اقرا عزیز، صنم سعید، احد رضا میر، نادیہ خان اور دیگر معروف فنکار شامل ہیں، جبکہ اس کی ہدایت کاری اور پروڈکشن مومنہ درید نے کی ہے۔
یہ سیریز ابتدائی طور پر 2025 میں ریلیز ہونا تھی، تاہم مقررہ وقت پر اس کی نمائش نہ ہو سکی۔ اس کے بعد طویل عرصے تک نہ کاسٹ اور نہ ہی پروڈیوسرز کی جانب سے کوئی باضابطہ اپ ڈیٹ سامنے آئی، جس کے باعث یہ قیاس آرائیاں بھی ہونے لگیں کہ شاید منصوبہ ملتوی یا منسوخ کر دیا گیا ہے۔
اب تازہ اطلاعات کے مطابق مومنہ درید اس وقت سیریز کی فائنل ایڈیٹنگ کی نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں کاسٹ اس کی تشہیری مہم کا آغاز بھی کرے گی۔
دوسری جانب، کئی سال کی تاخیر کے باعث پاکستانی ناظرین اب بھی ریلیز کی خبروں پر مکمل یقین کرنے کو تیار نہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک مداح نے لکھا، ’’جب تک اقساط ریلیز نہیں ہوتیں، میں یقین نہیں کروں گا۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’مجھے اب بھی اس خبر پر اعتماد نہیں۔‘‘