چیمپیئنز ٹرافی؛ پی آئی اے بین الاقوامی ٹیموں کو کون سی سفری سہولیات فراہم کرے گی؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2025 GMT
کراچی:
عالمی کرکٹ چیمپیئنز ٹرافی میں شرکت کرنے والی ٹیمیوں کے کھلاڑیوں کو قومی ایئر لائن پی آئی اے خصوصی پروازوں کے ذریعے لاہور، کراچی اور اسلام آباد پہنچائے گی۔
تفصیلات کے مطابق پی آئی اے پاکستان میں منعقد ہونے والی کرکٹ چیمپیئن ٹرافی میں شرکت کرنے والی بین الاقوامی ٹیموں کو سفری سہولیات فراہم کرے گی۔
پی آئی اے نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے تعاون کے ساتھ ٹیموں کی اندرون ملک آمدورفت کے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ پی آئی اے چیمپیئن ٹرافی میں کرکٹ ٹیموں کی اندرون ملک آمدورفت کے لیے خصوصی چارٹر پروازیں آپریٹ کرے گی۔
مزید پڑھیں؛ چیمپئنز ٹرافی 2025: پانچ بلے باز جو ایونٹ میں دھوم مچا سکتے ہیں
دوران پرواز مہمان ٹیموں کو پاکستانی ثقافت سے روشناس کروانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
کراچی، اسلام آباد اور لاہور کے درمیان 09 خصوصی چارٹر پروازیں چلائی جائیں گی۔
واضح رہے کہ آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 2025 کا پہلا میچ 19 فروری کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا جہاں میزبان ٹیم اور دفاعی چیمپیئن پاکستان کا مقابلہ نیوزی لینڈ کے ساتھ ہوگا۔
افتتاحی میچ مقامی وقت کے مطابق دو پہر 2 بجے شروع ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔