کراچی میں میری ٹائم ایکسپو2025کا افتتاح:سول و عسکری قیادت، بین الاقوامی وفود کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس 2025 کے دوسرے ایڈیشن کی افتتاحی تقریب ایکسپو سینٹر کراچی میں منعقد ہوئی۔ سعودی وزیر برائے ٹرانسپورٹ و لاجسٹک سروسز، صالح الجاسر تقریب کے اعزازی مہمان تھے جبکہ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، احسن اقبال نے مہمانِ خصوصی کے طور پر شرکت کی۔ تقریب میں آمد پر چیف آف دی نیول اسٹاف، ایڈمرل نوید اشرف نے اعزازی مہمان اور مہمانِ خصوصی کا استقبال کیا۔
افتتاحی تقریب میں مہمانِ خصوصی نے پاکستان کے بحری شعبے کی استعداد کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ شعبہ قومی معیشت کی بہتری میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے بلیو اکانومی کی اہمیت کے حوالے سے عوام میں آگہی کے فروغ اور ملکی بحری وسائل کو اجاگر کرنے کے لیے اس میری ٹائم ایکسپو کے انعقاد پر پاک بحریہ کی کاوشوں کو سراہا۔ مہمانِ خصوصی نے باضابطہ طور پر ایکسپو کے افتتاح کا اعلان کیا، یادگاری ڈاک ٹکٹ کی رونمائی کی اور بعدازاں ایکسپو کے مختلف اسٹالز کا بھی دورہ کیا۔
پاک بحریہ کی جانب سے وزارتِ بحری امور کی سرپرستی میں منعقد ہ ایکسپو جو 6 نومبر 25 تک جاری رہے گی۔ 44 ممالک کے وفود اور 178 بین الاقوامی و ملکی نمائش کنندگان کی شرکت پاکستان کے بحری شعبے میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کی عکاس ہے۔
پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس قومی و بین الاقوامی سطح پر بحری شعور بڑھانے اور پاکستان کی بلیو اکانومی کی بے مثال صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی ایک نمایاں کوشش ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میری ٹائم ایکسپو
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔