ٹیسلا کی بھارت میں انٹری، بھرتیوں کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2025 GMT
امریکی ارب پتی آجر ایلون مسک نے اپنے ادارے ٹیسلا کا کاروبار بھارت میں بھی پھیلانے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ٹیسلا کے مالک نے بھارت میں ملازمت کے مواقع کا اعلان بھی کیا ہے۔ یاد رہے کہ تین دن قبل ایلون مسک اور بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کی واشنٹگن میں ملاقات ہوئی تھی جس کے دوران ٹیسلا کا کاروبار بھارت میں بھی شروع کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔
ٹیسلا نے بھارت میں ہائرنگ شروع کردی ہے۔ کئی طرح کی جابز کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے لِنکڈ اِن کو بروئے کار لایا گیا ہے۔ الیکٹرک کاریں تیار کرنے والے دنیا کے نمایاں ترین ادارے کی بھارت میں انٹری کی راہ اب مکمل طور پر ہموار ہوچکی ہے۔
کاروباری دنیا کی معروف ویب سائٹ بلوم برگ کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹیسلا نے بھارت میں 13 طرح کی ملازمتوں کا اعلان کیا ہے۔ اِن میں کسٹمر فیسنگ اور بیک اینڈ رول بھی شامل ہیں۔ جاب پوسٹنگز پیر کو لِنکڈ اِن پر نمودار ہوئیں۔ سروس ٹیکنیشین اور ایڈوائزری کردار ادا کرنے والوں سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں جنہیں ممبئی اور دہلی میں تعینات کیا جائے گا۔
ماضی میں ٹیسلا کے مالک نے بھارت کی مارکیٹ میں انٹری کی خواہش کئی بار ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی مارکیٹ بہت بڑی ہے اس لیے اُس میں بھرپور دلچسپی لی جاسکتی ہے۔ اب وہ وقت آگیا ہے کیونکہ ایلون مسک کی طرف سے گرین سگنل ملنے پر بھرتیاں شروع کردی گئی ہیں۔ بھارت نے 40 ہزار ڈالر سے زائد مالیٹ کی الیکٹرک کارز پر درآمدی ڈیوٹی 110 فیصد سے گھٹاکر 70 فیصد کردی ہے جس کے نتیجے میں ٹیسلا اور دیگر غیر ملکی کمپنیوں کو بھارت کی مارکیٹ میں قدم جمانے کا موقع ملے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: بھارت میں کا اعلان نے بھارت
پڑھیں:
ایلون مسک کی اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے نئی پیشگوئی
اسلام آباد: ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے مستقبل سے متعلق ایک بار پھر اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں یہ تمام انسانوں کی مجموعی ذہانت سے بھی آگے نکل سکتی ہے۔
ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے ایلون مسک نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث آنے والے برسوں میں تقریباً ہر شعبے اور ہر قسم کے کام میں اے آئی انسانوں سے بہتر کارکردگی دکھانے کے قابل ہو جائے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچہ اے آئی غیر معمولی ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتی ہے، تاہم اگلی دہائی میں انسانیت کے لیے اس ٹیکنالوجی پر مؤثر کنٹرول برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
ایلون مسک کے مطابق مصنوعی ذہانت مستقبل میں ایسے مواقع پیدا کر سکتی ہے جہاں لوگوں کو بے مثال وسائل، سہولیات اور ترقی کے امکانات میسر ہوں، جبکہ یہ ٹیکنالوجی عالمی تنازعات کے حل اور بہتر فیصلہ سازی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کے ممکنہ خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول، جیسے جیسے جدید اے آئی سسٹمز مزید طاقتور ہوتے جائیں گے، ویسے ویسے ان کے غیر متوقع نتائج اور سکیورٹی خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
ایلون مسک نے تجویز دی کہ دنیا کی بڑی اے آئی کمپنیاں باقاعدگی سے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہیں، حفاظتی اور سکیورٹی امور پر مشترکہ مشاورت کریں اور صرف حکومتی قوانین پر انحصار کرنے کے بجائے خود بھی ذمہ دارانہ اقدامات کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی ڈویلپرز کو چاہیے کہ وہ اپنے ماڈلز کو عوام کے لیے جاری کرنے سے قبل ایک دوسرے کے سسٹمز کا جائزہ لیں، ممکنہ خطرات کی نشاندہی کریں اور جدید مصنوعی ذہانت کی محفوظ ترقی کو یقینی بنانے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دیں۔