چین کا غیر ملکی سرمایہ کاری کو مستحکم کرنے کے اقدامات کے منصوبے” کا اجراء
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2025 GMT
بیجنگ :چینی ریاستی کونسل کے جنرل آفس نے وزارت تجارت اور قومی ترقی و اصلاحات کمیشن کی جانب سے جاری کردہ “2025 کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کو مستحکم کرنے کے اقدامات کے منصوبے” کو جا ری کیا ۔اس منصوبے میں خود مختار کھلے پن کو منظم طریقے سے بڑھانے کی تجویز پیش کی گئی ہے، جس میں ٹیلی کام، صحت، اور تعلیم جیسے شعبوں میں کھلے پن کے تجرباتی منصوبوں کو وسعت دینا، مینوفیکچرنگ کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی رسائی میں پابندیوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کے مطالبات کو نافذ کرنا، ملک بھر میں خدمات کے شعبے میں کھلے پن کے جامع تجرباتی منصوبوں کو بہتر بنانا، اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو چین میں ایکوئٹی سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دینے سمیت اقدامات شامل ہیں۔منصوبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کے معیار کو بہتر بنانے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے، جس میں “چین میں سرمایہ کاری” کے برانڈ کو مسلسل مضبوط بنانا،
غیر ملکی کمپنیوں کی ملک میں دوبارہ سرمایہ کاری کی حمایت کو بڑھانا، غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے حوصلہ افزائی کرنے والے صنعتی شعبوں کو وسیع کرنا، غیر ملکی سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کے لیے ملک میں قرضے استعمال کرنے کی پابندیوں کو ختم کرنا، ملٹی نیشنل کمپنیوں کو سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیاں قائم کرنے کی ترغیب دینا، غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے چین میں انضمامی سرمایہ کاری کو آسان بنانا، اور اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے اقدامات شامل ہیں۔اس منصوبے میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ اوپن پلیٹ فارم کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے، ترقیاتی زون کے انتظامی نظام میں اصلاحات کو گہرا کیا جائے اور آزاد تجارت کے تجرباتی زون کی ترقی کی حکمت عملی کو نافذ کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: غیر ملکی سرمایہ کاری سرمایہ کاری کو کے لیے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔