خطے کی سلامتی کیلئے ہمسایہ ممالک کو اقدامات اٹھانے چاہئیں، ایرانی صدر
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2025 GMT
قطر کے امیر کے ساتھ اپنی ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ دینی و انسانی اقدار کی بنیاد پر تمام حکومتوں اور اقوام کو چاہئے کہ وہ غزہ و فلسطینی عوام کے حقوق کا دفاع کریں اور ایک تاریخی سرزمین پر اُن کی پُرامن زندگی کیلئے جدوجہد کریں۔ اسلام ٹائمز۔ تہران کے دورے پر آئے ہوئے قطر کے امیر "شیخ تمیم بن حمد آل ثانی" نے ایرانی صدر ڈاکٹر "مسعود پزشکیان" سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ہمسایہ و علاقائی ممالک کے ساتھ سیاسی، اقتصادی، ثقافتی، عسکری اور سکیورٹی شعبوں میں روابط کو بڑھانا اسلامی جمہوریہ ایران کی بنیادی حکمت عملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران سمجھتا ہے کہ اچھی ہمسائیگی اور خطے کے تحفظ کے لئے تعمیری تعاون کے ذریعے علاقائی ممالک اقدامات اٹھا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ہم شامی سرزمین کی خودمختاری اور وہاں کے عوام کی سیاسی عمل میں شرکت پر زور دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے امیر قطر کے ساتھ بہت سارے مسائل پر مشاورت کی۔
ایرانی صدر نے کہا کہ میں ضروری سمجھتا ہوں کہ فلسطینی قیدیوں کی آزادی کے لئے قطر کی ثالث کی حیثیت سے کوششوں کو سراہا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ غزہ کے عوام کی مشکلات میں کمی اور اُن کے خلاف جارحیت کو بند کروانے کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ مذکورہ اہداف کی خاطر مسلمان ممالک کو ایک پیج پر آنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ دینی و انسانی اقدار کی بنیاد پر تمام حکومتوں اور اقوام کو چاہئے کہ وہ غزہ و فلسطینی عوام کے حقوق کا دفاع کریں اور ایک تاریخی سرزمین پر اُن کی پُرامن زندگی کے لئے جدوجہد کریں۔ ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ آخر میں میں ایک بار پھر قطر کے امیر اور ان کے ہمراہ وفد کو ایران آنے پر خوش آمدید کہتا ہوں۔ میں ان کی کامیابی کے لئے دعا گو ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈاکٹر مسعود پزشکیان انہوں نے کہا کہ کے لئے قطر کے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔