فیس بک کی جانب سے سوشل میڈیا نیٹ ورک میں ایک اہم تبدیل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

یہ تبدیلی ان افراد کے لیے کافی اہم ہے جو فیس بک پر لائیو ویڈیو اسٹریمنگ کرنے کے عادی ہیں۔،فیس بک کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ اب لائیو ویڈیوز کو سوشل میڈیا نیٹ ورک پر صرف 30 دن تک کے لیے اسٹور کیا جائے گا اور اس کے بعد ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔

اس سے قبل یہ ویڈیوز لامحدود عرصے تک فیس بک میں محفوظ رہتی تھیں۔ اس تبدیلی کا اطلاق 19 فروری سے ہوگیا ہے۔کمپنی کے مطابق فیس بک اکاؤنٹس میں ابھی محفوظ 30 دن سے زیادہ پرانی ویڈیوز کو بھی ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔البتہ ویڈیوز ڈیلیٹ ہونے سے قبل صارفین کو نوٹیفکیشن بھیجا جائے گا اور انہیں 90 دن کی مہلت دی جائے گی تاکہ وہ پرانی لائیو ویڈیوز کو کہیں اور محفوظ کرسکیں۔

صارفین ان ویڈیوز کو اپنی ڈیوائسز میں ڈاؤن لوڈ کرسکیں گے، کلاؤڈ اسٹوریج میں ٹرانسفر کرسکیں گے یا کسی ریل کی شکل میں تبدیل کرسکیں گے۔کمپنی کی جانب سے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا گیا کہ اس تبدیلی سے ہمیں اپ ٹو ڈیٹ لائیو ویڈیوز کا تجربہ فیس بک صارفین کو فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔البتہ کمپنی نے مزید وضاحت نہیں کی کہ اچانک ایسا کیوں کیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ویڈیوز کو جائے گا فیس بک

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • فیس بک صارفین اب مفت ویریفائیڈ بلیو ٹک حاصل کر سکتے ہیں، میٹا کا نیا پروگرام متعارف
  • فیس بک کا ٹک ٹاک کو ٹکر دینے کے لیے فل اسکرین ویڈیو فیڈ کا تجربہ
  • Google سیلفی ویڈیو فیچر، اکاؤنٹ سائن اِن مزید محفوظ بنانے کا نیا طریقہ
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا