ہم لبنان کو امریکی و اسرائیلی دھمکیوں کے سامنے زیر نہیں ہونے دینگے، حزب الله
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2025 GMT
اپنے ایک خطبہ جمعہ میں شیخ علی دعموش کا کہنا تھا کہ ہم نے لبنان کی سربلندی کے لئے ہزاروں شہداء اور زخمی دئیے۔ ہم نہ تو مرے ہیں اور نہ ہی کمزور ہیں۔ نہ ہی ہمیں کوئی کمزور سمجھے۔ اسلام ٹائمز۔ لبنان کی مقاومتی تحریک "حزب الله" کی ایگزیکٹو کونسل کے نائب سربراہ "شیخ علی دعموش" نے کہا کہ ہم ایک آزاد اور خود مختار لبنان کی حیثیت سے اپنی تنصیبات پر حملے کی دھمکیوں کے دباو میں آ کر امریکی و اسرائیلی ڈکٹیشن قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کے خطبے میں کیا۔ اس موقع پر شیخ علی دعموش نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ ایران سے لبنان فلائٹ آپریشن میں تعطل کے مسئلے کو حل کرے۔ کیونکہ یہ موضوع لبنان کی خودمختاری اور ہماری قومی غیرت سے جڑا ہوا ہے۔ امریکی و صیہونی فیصلے کی وجہ سے ایرانی جہازوں کی بیروت فضائی اڈے پر آمدورفت میں خلل لبنان کے بین الاقوامی تعلقات میں واضح مداخلت ہے۔ یہ امر دوسری شرائط اور ڈکٹیشن کی راہ ہموار کرتا ہے کہ جس کا سلسلہ ایرانی پروازوں سے شروع ہوتا ہے اور نجانے کہاں ختم ہو گا۔ انہوں نے لبنانی عوام سے شہید "سید حسن نصر الله" کے سفر آخرت میں بھرپور شرکت کی اپیل کی۔ شیخ علی دعموش نے ان کے بارے میں کہا کہ اس غیر معمولی و تاریخی رہنماء کو ایک یادگار اور عظیم الشان تقریب میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
حزب الله کے سینئر رہنماء نے کہا کہ یہ عظیم روحانی اجتماع مقاومت کی قدرت کا مظہر یا عوامی ریفرنڈم نہیں کیونکہ صیہونی قبضے کے ہوتے ہوئے بلکہ بنیادی طور پر مقاومت کو کسی ریفرنڈم کی ضرروت نہیں بلکہ اس عظیم اجتماع میں شرکت کا مطلب ایک عالمی قائد کے ساتھ وفاداری اور تجدید عہد کا اعلان ہے۔ شهید سید حسن نصر الله نے اپنی عمر مبارک لبنان کے دفاع، خود مختاری اور قومی وقار کے لئے قربان کر دی۔ انہوں نے وہ کامیابیاں حاصل کیں جس نے دشمن کو منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔ انہوں نے مسئلہ فلسطین اور اسلامی مسائل کو اپنے کندھوں پر اٹھایا اور قدس کی آزادی کی راہ میں شہادت کا جام نوش کیا۔ جس کی وجہ سے انہیں سید الشہدائے امت کہا جانے لگا۔ انہوں نے کہا کہ حزب الله، لبنان کے کسی بھی حصے پر قبضے کے خلاف ہے۔ ہم مقاومت پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہم کبھی بھی ماضی کی طرح لبنان کو کمزور نہیں ہونے دیں گے کہ جب اسرائیل نے ہماری سرزمین کو نشانہ بنایا اور کوئی جوابی کارروائی بھی نہ ہوئی۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم نے لبنان کی سربلندی کے لئے ہزاروں شہداء اور زخمی دئیے۔ ہم نہ تو مرے ہیں اور نہ ہی کمزور ہیں۔ نہ ہی ہمیں کوئی کمزور سمجھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شیخ علی دعموش نے کہا کہ لبنان کی انہوں نے
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔