اپنے ایک خطبہ جمعہ میں شیخ علی دعموش کا کہنا تھا کہ ہم نے لبنان کی سربلندی کے لئے ہزاروں شہداء اور زخمی دئیے۔ ہم نہ تو مرے ہیں اور نہ ہی کمزور ہیں۔ نہ ہی ہمیں کوئی کمزور سمجھے۔ اسلام ٹائمز۔ لبنان کی مقاومتی تحریک "حزب‌ الله" کی ایگزیکٹو کونسل کے نائب سربراہ "شیخ علی دعموش" نے کہا کہ ہم ایک آزاد اور خود مختار لبنان کی حیثیت سے اپنی تنصیبات پر حملے کی دھمکیوں کے دباو میں آ کر امریکی و اسرائیلی ڈکٹیشن قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کے خطبے میں کیا۔ اس موقع پر شیخ علی دعموش نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ ایران سے لبنان فلائٹ آپریشن میں تعطل کے مسئلے کو حل کرے۔ کیونکہ یہ موضوع لبنان کی خودمختاری اور ہماری قومی غیرت سے جڑا ہوا ہے۔ امریکی و صیہونی فیصلے کی وجہ سے ایرانی جہازوں کی بیروت فضائی اڈے پر آمدورفت میں خلل لبنان کے بین الاقوامی تعلقات میں واضح مداخلت ہے۔ یہ امر دوسری شرائط اور ڈکٹیشن کی راہ ہموار کرتا ہے کہ جس کا سلسلہ ایرانی پروازوں سے شروع ہوتا ہے اور نجانے کہاں ختم ہو گا۔ انہوں نے لبنانی عوام سے شہید "سید حسن نصر الله" کے سفر آخرت میں بھرپور شرکت کی اپیل کی۔ شیخ علی دعموش نے ان کے بارے میں کہا کہ اس غیر معمولی و تاریخی رہنماء کو ایک یادگار اور عظیم الشان تقریب میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

حزب‌ الله کے سینئر رہنماء نے کہا کہ یہ عظیم روحانی اجتماع مقاومت کی قدرت کا مظہر یا عوامی ریفرنڈم نہیں کیونکہ صیہونی قبضے کے ہوتے ہوئے بلکہ بنیادی طور پر مقاومت کو کسی ریفرنڈم کی ضرروت نہیں بلکہ اس عظیم اجتماع میں شرکت کا مطلب ایک عالمی قائد کے ساتھ وفاداری اور تجدید عہد کا اعلان ہے۔ شهید سید حسن نصر الله نے اپنی عمر مبارک لبنان کے دفاع، خود مختاری اور قومی وقار کے لئے قربان کر دی۔ انہوں نے وہ کامیابیاں حاصل کیں جس نے دشمن کو منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔ انہوں نے مسئلہ فلسطین اور اسلامی مسائل کو اپنے کندھوں پر اٹھایا اور قدس کی آزادی کی راہ میں شہادت کا جام نوش کیا۔ جس کی وجہ سے انہیں سید الشہدائے امت کہا جانے لگا۔ انہوں نے کہا کہ حزب‌ الله، لبنان کے کسی بھی حصے پر قبضے کے خلاف ہے۔ ہم مقاومت پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہم کبھی بھی ماضی کی طرح لبنان کو کمزور نہیں ہونے دیں گے کہ جب اسرائیل نے ہماری سرزمین کو نشانہ بنایا اور کوئی جوابی کارروائی بھی نہ ہوئی۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم نے لبنان کی سربلندی کے لئے ہزاروں شہداء اور زخمی دئیے۔ ہم نہ تو مرے ہیں اور نہ ہی کمزور ہیں۔ نہ ہی ہمیں کوئی کمزور سمجھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: شیخ علی دعموش نے کہا کہ لبنان کی انہوں نے

پڑھیں:

پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے

سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔  اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ 

کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ 

سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔ 

او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان