اسلام آباد ہائیکورٹ بار، ججز سینیارٹی لسٹ سپریم کورٹ میں چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2025 GMT
اسلام آ باد:
اسلام آباد ہائیکورٹ ججز سینیارٹی کا معاملہ،اسلام آباد ہائی کورٹ بار نے ججز سینیارٹی لسٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے آئین کے آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت درخواست دائر کر دی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ قرار دے صدر کو آرٹیکل 200 کی شق ایک کے تحت ججز کے تبادلے کے لامحدود اختیارات نہیں، مفاد عامہ کے بغیر ججز کو ایک ہائیکورٹ سے دوسری ہائیکورٹ ٹرانسفر نہیں کیا جاسکتا۔
درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ نیا حلف لینے تک ٹرانسفر ہونے والے ججز کو دوسری ہائیکورٹس کے جج قرار دیا جائے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائمقام چیف جسٹس کی تعیناتی کالعدم قرار دی جائے،نئے ججز کے حلف لینے کے بعد سینیارٹی شمار کی جائے، رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کو نئی سینیارٹی لسٹ جاری کرنے کا حکم دیا جائے۔
واضح رہے اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز نے بھی ججز کی سنیارٹی کو سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ سپریم کورٹ
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں