ایس یو سی کے سیکرٹری جنرل نے سیدین مقاومت کے تشیع جنازہ اور عالم اسلام میں حریت کے علمبرداروں کی مجاہدانہ زندگی پر روشنی بھی ڈالی اور اجتماعی فاتحہ خوانی بھی کروائی۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد علی جروار بھی موجود تھے۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو

علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کی خانہ فرہنگ کراچی میں منعقدہ تقریب "انا علی العہد" میں خصوصی شرکت

علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کی خانہ فرہنگ کراچی میں منعقدہ تقریب "انا علی العہد" میں خصوصی شرکت

علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کی خانہ فرہنگ کراچی میں منعقدہ تقریب "انا علی العہد" میں خصوصی شرکت

علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کی خانہ فرہنگ کراچی میں منعقدہ تقریب "انا علی العہد" میں خصوصی شرکت

علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کی خانہ فرہنگ کراچی میں منعقدہ تقریب "انا علی العہد" میں خصوصی شرکت

علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کی خانہ فرہنگ کراچی میں منعقدہ تقریب "انا علی العہد" میں خصوصی شرکت

اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کی خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران کراچی میں منعقدہ تقریب "انا علی العہد" میں خصوصی شرکت۔ اس تقریب میں مہمان خاص حجت الاسلام آیت اللہ دری نجف آبادی اور قونصلیٹ جنرل کراچی محترم حسین نوریان بھی موجود تھے۔ ایس یو سی کے سیکرٹری جنرل کی شرکت پر ڈائریکٹر خانہ فرہنگ ڈاکٹر طالبی نیا و دیگر منتظمین نے انہیں خوش آمدید کہا۔ شیعہ علماء کونسل کے سیکرٹری جنرل نے سیدین مقاومت کے تشیع جنازہ اور عالم اسلام میں حریت کے علمبرداروں کی مجاہدانہ زندگی پر روشنی بھی ڈالی اور اجتماعی فاتحہ خوانی بھی کروائی۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد علی جروار بھی موجود تھے۔.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کی خانہ فرہنگ کراچی میں منعقدہ تقریب کے سیکرٹری جنرل میں خصوصی شرکت انا علی العہد

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار نے مشترکہ مصوری کی تقریب میں شرکت کی
  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے قائم مقام وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک