ملک بھر میں ایک ہی روز روزہ ہوگا،چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کا بڑا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 25th, February 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ملک بھر میں ایک ہی روز فرزندان اسلام روزہ رکھیں گے،مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبد الخبیرآزاد نےنوید سنا دی۔
نجی ٹی وی سما نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخیبر آزاد نےکہا کہ رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کےلیےپشاور میں اجلاس ہوگا،ملک بھرمیں ایک ہی روزرمضان المبارک کےآغازکی تیاریاں کی جارہی ہیں،ایک ہی روز روزہ اورعید کے لیےکامیاب کوشش پرخوشی ہوتی ہے۔
مزید کہا کوشش ہےکہ ملک بھرمیں ایک ہی دن روزہ رکھاجائے،کامیاب کوششوں سےایک ہی دن روزہ اورعیدکی روایت برقراررکھیں گے۔
آئی ایم ایف وفداقتصادی جائزے کیلئے 3 مارچ کو پاکستان آئے گا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ایک ہی
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔