شہباز شریف باکو سے 2 روزہ دورے پر اُزبکستان کے شہر تاشقند پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 25th, February 2025 GMT
وزیراعظم ازبک صدر سے دو طرفہ ملاقات بھی کریں گے جس میں ازبکستان اور پاکستان کے مابین علاقائی روابط، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع، سلامتی، علاقائی استحکام اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کے مزید فروغ پر گفتگو ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف آذر بائیجان کا 2 روزہ دورہ ختم کرکے باکو سے اُزبکستان کے شہر تاشقند پہنچ گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ازبکستان کے صدر عزت مآب شوکت مرزیایوف کی خصوصی دعوت پر وزیراعظم شہباز شریف اپنے 2 روزہ دورہ ازبکستان کیلئے تاشقند پہنچ گئے۔ اُزبکستان کے وزیر اعظم عبداللہ عاریپوف، ازبک وزیر خارجہ بختیار سیدوف، تاشقند کے میئر شوکت عمرزاکوف، ازبکستان کے پاکستان میں سفیر علی شیر تختائیف اور پاکستان کے ازبکستان میں سفیر احمد فاروق سمیت اعلی سفارتی و سرکاری اہلکاروں نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ تاشقند ہوائی اڈے پر وزیراعظم اور پاکستانی وفد کے استقبال کیلئے ازبک مسلح افواج کا چاک و چوبند دستہ بھی موجود تھا۔
وزیراعظم تاشقند میں یادگار آزادی کا دورہ کریں گے جہاں شہباز شریف پھولوں کی چادر چڑھا کر ازبکستان کی عظیم تاریخی شخصیات کو خراج عقیدت اور ازبکستان کی تعمیر و ترقی، غیور و محنتی ازبک عوام کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کریں گے۔ وزیراعظم کو اس موقع پر یادگار پر تعمیر کردہ ازبکستان کی 3000 سالہ تاریخ کی منبت کاری کا دورہ کروایا جائے گا اور بریفنگ دی جائے گی۔ وزیراعظم ازبک صدر عزت مآب شوکت مرزیایوف سے دو طرفہ ملاقات بھی کریں گے جس میں ازبکستان اور پاکستان کے مابین علاقائی روابط، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع، سلامتی، علاقائی استحکام اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کے مزید فروغ پر گفتگو ہوگی۔
دونوں راہنماؤں کے مابین باہمی دلچسپی کے عالمی و علاقائی امور پر تبادلہ خیال بھی ہوگا، ملاقات کے بعد پاکستان اور ازبکستان کے مابین دوطرفہ تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں و معاہدوں پر بھی دستخط ہوں گے۔ پاکستان اور اُزبکستان کی کاروباری و سرمایہ کار برادری کے مابین تعاون کو بڑھانے کیلئے تاشقند میں پاکستان اور اُزبکستان بزنس فورم کا انعقاد بھی ہوگا جس میں وزیراعظم شرکت کریں گے اور خطاب بھی کریں گے۔ وزیراعظم اُزبکستان کی تعمیری صنعت کے مشاہدے کیلئے تاشقند میں قائم ٹیکنو-پارک کا دورہ بھی کریں گے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر سرمایہ کاری و نجکاری عبدالعلیم خان، وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی وزیراعظم کے دورہ ازبکستان میں پاکستانی وفد میں شریک ہیں۔ قبل ازیں وزیراعظم کو آذربائیجان کے اول نائب وزیر اعظم عزت مآب یعقوب عبداللہ اوعلو ایوبوف، نائب وزیر خارجہ یالچین رفائیف، پاکستان میں آذربائیجان کے سفیر خضر فرخادوف، آذربائیجان میں پاکستان کے سفیر قاسم محی الدین اور اعلی سفارتی و سرکاری اہلکاروں نے وزیر اعظم کو الوداع کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ازبکستان کی اور پاکستان بھی کریں گے پاکستان کے شہباز شریف زبکستان کے زبکستان کی ا زبکستان کے مابین
پڑھیں:
بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں