صحافیوں کو درپیش مسائل کا حل ہماری اولین ترجیح: عطاء تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
اسلام آباد(اپنے سٹاف رپورٹر سے )وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات، قومی ورثہ و ثقافت عطاء اللہ تارڑ نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد صحافت جمہوریت کا لازمی جزو ہے‘ صحافیوں کو درپیش مسائل کا حل ہماری اولین ترجیح ہے۔ یہ بات انہوں نے پی ایف یو جے کے سالانہ انتخابات میں نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت آزادی اظہار رائے اور آزاد صحافت پر کامل یقین رکھتی ہے۔ پی ایف یو جے صحافیوں کی مضبوط آواز ہے، پی ایف یو جے نے ہمیشہ صحافیوں کے حق کی بات کی ہے۔ پی ایف یو جے کے نومنتخب عہدیداران کا انتخاب صحافیوں کے لئے آپ کی لگن اور وابستگی کا ثبوت ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے اس یقین کا اظہار کیا کہ پی ایف یو جے صحافیوں کے حقوق کے تحفظ اور ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے افضل بٹ کو صدر، ارشد انصاری کو سیکریٹری جنرل، سعید جان کو فنانس سیکریٹری اور پی ایف یو جے کے ملک بھر سے دیگر نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد دی اور ان کیلئے نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر اطلاعات پی ایف یو جے
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔