نیپرا : موسم گرما کیلئے پانی کی صورتحال پر واپڈا سے تفصیلات طلب
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے موسم گرما کیلئے پانی کی صورتحال پر واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) سے تفصیلات طلب کر لیں۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق جنوری کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے)کے لئے سماعت چیئرمین نیپرا وسیم مختار کی سربراہی میں ہوئی۔حکام پاور ڈویژن نے بتایا کہ جنوری میں ایف سی اے کی مد میں ریفرنس لاگت 11 روپے رہی، جنوری میں 7 ارب 81 کروڑ یونٹ بجلی فروخت ہوئی۔پاور ڈویژن نے ایف سی اے کیٹیگری میں زرعی ٹیوب ویلز صارفین اور 300 تک یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو شامل کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ایف سی اے کیٹیگری میں شامل ہونے سے دیگر صارفین پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
حکام پاور ڈویژن کا کہنا تھاکہ ایف سی اے کی مد میں کمی کا ریلیف تمام صارفین کو ملے گا، کل وزارت پاور ڈویڑن نے اتھارٹی کو خط لکھا ہے اس معاملہ کو دیکھا جائے، ایف سی اے کی مد میں کمی کا ریلیف تمام صارفین کو ملے گا۔حکام نے بتایا کہ سولر صارفین سے 18 فیصد جی ایس ٹی وصولی کے معاملے پر ایف بی آر سے بات کرنا ہو گی، ایف بی آر سے بات چیت کے بعد اس معاملے پر جواب دیں گے۔نیپرا نے موسم گرما کیلئے پانی کی صورتحال پر واپڈا سے تفصیلات طلب کر لیں اور آئندہ سماعت میں واپڈا حکام کو طلب کر لیا۔
واپڈا حکام نے بتایا کہ آئندہ موسم گرما میں پانی کا ڈیڈ لیول ایک سے ڈیڑھ فٹ تک رہے گا، موسم گرما میں پانی کی سطح کم ہونے سے سستی بجلی کی پیداوار کم ہوگی، اس دفعہ موسم گرما میں درآمدی ایل این جی پر انحصار کرنا پڑے گا، جنوری میں سردی کم رہنے سے بجلی کی کھپت کم رہی۔جنوری کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں درخواست پر سماعت مکمل ہونے کے بعد نیپرا نے فیصلہ محفوظ کر لیا، نیپرا اتھارٹی اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ جاری کرے گی۔
آپ ججز کے ہوتے مجھے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا،فیصل صدیقی کا جسٹس جمال مندوخیل کو جواب
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ایف سی اے کی کی مد میں پانی کی
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔