ساؤتھ زون میں لاقانونیت کی انتہا، پیپلز پارٹی کے مقامی عہدیدار پر مسلح افراد کا بہیمانہ تشدد
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد کے علاقے بوٹ بیسن میں مسلح افراد نے پیپلز پارٹی یوتھ آرگنائزیشن کراچی ڈویژن کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر زخمی کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق ساؤتھ زون میں لاقانونیت کی انتہا ہوگئی، بوٹ بیسن کے علاقے میں ٹویوٹا سرف میں سوار مسلح افراد نے پیپلز پارٹی یوتھ آرگنائزیشن کراچی ڈویژن کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات برکت سومرو کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر زخمی کر دیا جبکہ کار میں سوار ان کے دوست کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آگئی جس میں مسلح افراد کو چھوٹے اور بڑے ہتھیار کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے ، بوٹ بیسن پولیس نے برکت سومرو کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 133 سال 2025 بجرم دفعہ 147 ، 148 ، 149 ، 324 ، 504 ، 506 بی اور 337 اے ون کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔
تشدد کا واقعہ 19 فروری کی شب 3 بجے کے قریب پیش آیا تھا جبکہ پولیس نے 21 فروری کو مقدمہ درج کر کے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا، مدعی کے مطابق وہ رئیل اسٹیٹ کا کام اور سچل گوٹھ کے قریب پی سی ایس آئی آر سوسائٹی کا رہائشی ہے۔
19 فروری کی رات 3 بجے وہ اپنے دوست وقاص کے ہمراہ گاڑی میں گھر جا رہا تھا کہ ہماری گاڑی کے عقب سے ایک گاڑی جسے میں نے راستہ دیا تو گالم گلوچ کرتے ہوئے ہماری گاڑی کو کراس کر کے آگے چلے گئے اور اپنی گاڑی کو ریورس کر کے گاڑی کو فرنٹ سے ٹکر مار دی،
گاڑی میں سوار 5 سے 6 اشخاص اسم سکونت نامعلوم تیزی سے اترے اور ان کے ہاتھ میں اسلحہ بھی تھا اور وہ شراب کے نشے میں تھے آتے ہی مجھے اور میرے ساتھی دوست پر حملہ کرتے ہوئے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔
مسلح افراد نے مجھے اور میرے دوست کو گاڑی سے باہر نکال کر مار پیٹ کرنے لگے اور اسلحے کے بٹ سے مارا جس کی وجہ سے میرا سر پھٹ گی ، ہم بمشکل منت سماجت کرتے ہوئے اپنی جان بچائی بعدازاں مسلح افراد اپنی سرف گاڑی نمبر بی ایف 3612 میں سوار ہو کر فرار ہوگئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مسلح افراد میں سوار تشدد کا
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔