مریم نواز کا پنجاب کے طلبا و طالبات کے لیے لیپ ٹاپ اسکیم کا اعلان، اہلیت کا معیار بھی بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, March 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ہونہار طلبا و طالبات کو لیپ ٹاپ فراہم کرنے کا اعلان کردیا۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنی ایک ٹوئٹ میں انہوں نے ایک لاکھ 10 ہزار طلبا و طالبات کو میرٹ کی بنیاد پر لیپ ٹاپ فراہم کرنے کا اعلان کیا۔
Delivering on another promise, a digitally empowered Punjab. I’m proud to unveil Chief Minister’s Laptop Program distribution to 110,000 students, ensuring that every eligible BS( Ist & 2nd Semester) student in Public Sector HED Colleges, All Public sector universities,Medical &…
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) March 2, 2025
مریم نواز کے اعلان کے مطابق انٹرمیڈیٹ، بی ایس اور میڈیکل و ڈینٹل میں ڈگری حاصل کرنے والے طلبا لیپ حاصل کرنے کے لیے اہل ہوں گے۔
وزیراعلیٰ نے اپنی ٹوئٹ میں لیپ ٹاپ حاصل کرنے کے لیے اہلیت کا معیار بھی بتا دیا ہے۔
مریم نواز نے لکھا کہ لیپ ٹاپ حاصل کرنے کے خواہشمند طلبا و طالبات کے لیے ضروری ہے کہ وہ پنجاب کے ڈومیسائل ہولڈر ہوں، اس کے علاوہ انٹرمیڈیٹ اور بی ایس میں 65 فیصد نمبر حاصل کرنے والے طلبا و طالبات لیپ حاصل کرنے کے لیے اہل ہوں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے مطابق میڈیکل اور ڈینٹل میں ڈگری کرنے والے طلبا و طالبات کے لیے ضروری ہے کہ انہوں نے 80 فیصد نمبر حاصل کیے ہوں۔
اہلیت کے معیار پر پورا اترنے والے طلبا و طالبات کو لیپ ٹاپ حاصل کرنے کے لیے آن لائن اپلائی کرنا پڑےگا۔
یہ بھی پڑھیں وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے دوسرے صوبوں کے لیے بھی لیپ ٹاپ اسکیم کا اعلان کردیا
مریم نواز نے مزید کہاکہ وہ طلبا و طالبات کو لیپ ٹاپ فراہم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرسکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اہلیت کا معیار پنجاب ڈومیسائل لیپ ٹاپ اسکیم مریم نواز وزیراعلٰی پنجاب وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اہلیت کا معیار پنجاب ڈومیسائل لیپ ٹاپ اسکیم مریم نواز وی نیوز حاصل کرنے کے لیے طلبا و طالبات کو مریم نواز والے طلبا کا اعلان لیپ ٹاپ
پڑھیں:
داتا دربار کے نذرانوں میں کروڑوں کا غبن کرنے والے 5 افسران کو سزا
اوقاف بورڈ نے زائرین کے نذرانوں میں کروڑوں روپے کی کرپشن کرنے کے الزام میں داتا دربار کے 5 سینئر افسران کو سزا سنادی۔
ملزمان میں سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار شیخ جمیل احمد، سابق مینجر طاہر مقصود، سابق اسٹینو گرافر ثاقب نسیم سمیت دیگر ملازمین شامل ہیں۔
محکمہ اوقاف بورڈ کی ہدایات کی روشنی میں مجاز اتھارٹی نے انکوائری کے بعد سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار شیخ جمیل احمد کو انکے اصل مستقل عہدے سے 5 سال کی مدت کے لئے کم درجے کے عہدے (BS-15) اور پے اسکیل پر تنزلی کا حکم دیا ہے۔
شیخ جمیل احمد کی 5 سال کی پچھلی سروس بھی ضبط کر لی گئی ہے، انہیں 9,265,800 روپے ادا کرنے ہوں گے جبکہ انکے سروس ریکارڈ میں منفی اندراج بھی کیا جائے گا، مستقبل میں اُنہیں کسی بھی کیش ہینڈلنگ آفس یا فیلڈ ریونیو پوسٹ پر تعینات کرنے پر مستقل پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اسی طرح سابق مینیجر داتا دربار طاہر مقصود کو سرکاری ملازمت سے برطرفی کی سزا دی گئی ہے، اسکے ساتھ 11,324,867 روپے (ان کا 55 فیصد واجب الادا حصہ) کی انفرادی مالیاتی ریکوری اور مستقبل میں فیلڈ پوسٹنگز پر مستقل پابندی عائد کی گئی ہے۔
سابق اسٹینو گرافر ایڈمنسٹریٹر آفس ثاقب نسیم کو 4 سال کی مدت کےلئے پچھلی سروس ضبط کرنے کی سزا دی گئی ہے اور ان پر انتظامی پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں کسی بھی خفیہ برانچ ایڈمنسٹریٹر دفاتر اور حساس دفاتر یا سی سی ٹی وی سیکیورٹی سے متعلقہ سائنمنٹس پر تعینات کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
سابق کیئر ٹیکر نور حسین کو تین سال کی مخصوص مدت کےلئے سالانہ ترقیاں روکنے کی سزا دی گئی ہے اور انہیں داتا دربار یا کسی بھی بڑے کیش جنریٹنگ مزار پر مستقبل میں تعینات کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
سابق کیئر ٹیکر محمد شریف اگرچہ اس مخصوص انکوائری رپورٹ کے الزامات سے بری ہو گئے ہیں لیکن مزار پر ایک زائر سے نقدی چوری کرنے کی وائرل ویڈیو کلپ سامنے آنے کے بعد انکے خلاف فوری طور پر علیحدہ اور آزادانہ تادیبی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، انہیں داتا دربار یا کسی بھی دوسرے بڑے مزار پر تعیناتی سے مستقل طور پر روک دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے سیکرٹری و چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مقدس مذہبی اداروں کے اندرکرپشن عوامی اعتماد کی سنگین خلاف ورزی کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے، کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دیا جائے گا۔