رمضان کی آمد پر وسیم بادامی نے عامر لیاقت کی قبر پر حاضری دیتے ہوئے یادیں تازہ کرا دیں
اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT
پاکستان کے معروف اینکر وسیم بادامی نے رمضان المبارک کے آغاز پر مرحوم ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی قبر پر حاضری دی اور ان کے لیے فاتحہ خوانی کی۔
وسیم بادامی نے اس موقع پر ایک خصوصی ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے ڈاکٹر عامر لیاقت کی رمضان نشریات میں خدمات کو سراہا اور ناظرین سے درخواست کی کہ وہ اس مقدس مہینے میں مرحوم اینکر کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔
A post common by Wasim Badami (@waseembadami_official)
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے پاکستانی ٹیلی ویژن پر رمضان ٹرانسمیشن کی بنیاد رکھی اور سحر و افطار کے پروگرامز کی میزبانی کے ذریعے نیکی اور مدد کرنے کی ترغیب دی۔
ان کی ترتیب دی گئی نشریات میں علما کرام سے دینی و دنیاوی معاملات پر رہنمائی، کوکنگ، کوئز شوز اور انٹرٹینمنٹ کا عنصر شامل ہوتا تھا جس نے انہیں ناظرین میں بے پناہ مقبولیت بخشی۔
وسیم بادامی نے ویڈیو میں معروف کامیڈین عمر شریف کی قبر بھی دکھائی اور کہا: "زمین کھا گئی آسمان کیسے کیسے”۔ انہوں نے دونوں مرحومین اور سب کے لیے گناہوں کی بخشش کی دعا بھی کی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: عامر لیاقت
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔