دو ماہ قبل زیادتی کے بعد قتل کیے جانے والے ننھے صارم کے والدین کا پولیس کیخلاف احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT
کراچی:
دو ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی پولیس زیادتی کے بعد قتل کیے جانے والے ننھے صارم کے قاتل کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے، مقتول صارم کےوالدین کا ڈی آئی جی ویسٹ آفس کے باہر احتجاج، پولیس اہلکاروں نے احتجاج سے روکنے کی کوشش کی۔
تفصیلات کے مطابق ننھا صارم 7 جنوری کو اپنی رہائشی عمارت بیت العنم اپارٹمنٹ سے پراسرار طور پر لاپتہ ہوا تھا جس کی لاش 18 دن کے بعد اسی کی رہائشی عمارت کے زیر زمین پانی کے ٹینک سے ملی تھی، پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق کم سن صارم کوجنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا۔
دو ماہ گزرنے کے باوجود پولیس ننھے صارم کے قاتل / قاتلوں کو گرفتار نہیں کرسکی، جس پر صارم کے والدین نے ڈی آئی جی ویسٹ آفس کے باہر احتجاج کیا، انہوں نے پلے کارڈز تھام رکھے تھے جن پر اپنے بیٹے کے قاتلوں کی گرفتاری کے مطالبات درج تھے۔
مقتول صارم کے والد کا کہنا تھا کہ صارم کے قاتل آزاد ہیں ، پولیس قاتلوں کی گرفتاری میں ناکام ہوگئی، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بیٹے کو انصاف دیا جائے۔
مقتول صارم کےو الد نے الزام عائد کیا کہ ڈی آئی جی ویسٹ آفس کے باہر اہلکاروں نے ان سے بدتمیزی کی اور انہیں احتجاج سے روکنے کی کوشش کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
جاپان (Japan)میں ایک شوہر نے 20 سال تک اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔
جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی کہانی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جاپان کے جزیرے ہوکائڈوسے تعلق رکھنے والے ایک 18 سالہ نوجوان نے ایک ٹیلی ویژن شو میں ایک غیر معمولی درخواست کی تھی اور ایک ایسے خاندانی مسئلے کے حل کے لیے مدد مانگی جو برسوں پرانا تھا۔
نوجوان میں بتایا کہ اس کے والدین تقریباً 20 سال تک ایک ساتھ رہے لیکن اس نے کبھی اپنے والدین کو آپس میں باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 دہائیوں تک شوہر اوکو کاتایاما اور ان کی اہلیہ یومی ایک ہی گھر میں رہے، تین بچوں کی پرورش کی اور ایک ساتھ کھانا کھایا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان شاذ و نادر ہی کوئی بامعنی بات چیت ہوئی۔
مزیدپڑھیں:تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
اس خاموشی کی وجہ کوئی تلخ جھگڑا یا بے وفائی نہیں تھی بلکہ شوہر اوکو کاتایاما نے اپنی اہلیہ سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ بیوی کی بچوں پر زیادہ توجہ پر حسد محسوس کرتا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جب بیوی بات کرنے کی کوشش کرتی تو اوکو کاتا یاما عام طور پر صرف سر ہلا کر یا کوئی بے ساختہ جواب دیتا۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوڑے کے سب سے چھوٹے بیٹے نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران اپنے والدین کے درمیان صلح کروانے میں مدد کی درخواست کی، جس کے بعد شو کی انتظامیہ نے جوڑے کی ملاقات کا انتظام اسی پارک میں کیا جہاں ماضی میں پہلی بار ملے تھے، جبکہ ان کے تینوں بچے کچھ فاصلے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
ملاقات کے دوران شوہر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنی اہلیہ سے کہا کہ “ہماری بات چیت ہوئے خاصا عرصہ گزر چکا ہے، تم بچوں کے معاملے میں بہت فکرمند رہتی تھیں، اب تک تم نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور میں ہر اس چیز کے لیے شکر گزار ہوں”۔