شہید حسن نصراللہ کے تشییع جنازہ میں شریک ڈاکٹر صابر ابو مریم کا خصوصی انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 4th, March 2025 GMT
حزب اللہ لبنان کے قائد سید مقاومت سید حسن نصراللہ شہید کے تشییع جنازہ میں فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم کی شرکت و مشاہدے؟ اجتماع کو کیسا پایا؟ دنیا کی تاریخ میں 23 فروری کا دن ہمیشہ کیوں یاد رکھا جائیگا؟ تشییع جنازے میں شرکت کیلئے دنیا بھر سے آئے مسلم و غیر مسلم عوام و خواص کے جذبات کیا تھے؟ مسلم و غیر مسلم شرکاء اپنے اپنے ممالک میں کیا پیغام عام کر رہے ہیں؟ مسلم و غیر مسلم شرکاء شہید حسن نصراللہ کا پیغام دنیا بھر میں پھیلا رہے ہیں؟ شہید مقاومت سید حسن نصراللہ کے تشییع جنازے میں پانچ ماہ کی تاخیر کی وجہ؟ شہید حسن نصراللہ کے تشییع جنازہ میں شریک فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم کا خصوصی ویڈیو انٹرویو ضرور سنیئے اور احباب و اقارب کیساتھ بھی شیئر کیجیئے۔ متعلقہ فائیلیںفلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم سیاسیات میں پی ایچ ڈی اسکالر، قانون دان، کالمسٹ، تجزیہ کار اور فلسطین کیساتھ یکجہتی کو فروغ دینے کیلئے گلوبل مارچ ٹو یروشلم مہم اور ایشین پیپلز سولیڈیٹریٹی فار فلسطین کے بانی ہیں۔ بنیادی تعلق کراچی ہے، فلسطین کے معاملے پر بہت متحرک ہیں اور سیاسی جماعتوں کے قائدین سے رابطے میں رہتے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے سید مقاومت شہید سید حسن نصراللہ کے تشییع جنازہ میں شریک ڈاکٹر صابر ابو مریم سے کراچی میں انکے آفس میں ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر ان سے لیا گیا خصوصی انٹرویو پیش خدمت ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/c/IslamtimesurOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈاکٹر صابر ابو مریم کے تشییع جنازہ میں
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔