دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا تو سرمایہ کاری آئے گی، حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پروزیراعظم کا کابینہ سے خطاب
اشاعت کی تاریخ: 5th, March 2025 GMT
آج ہماری حکومت کا ایک سال مکمل ہوگیا، معیشت ایک سال پہلے ہچکولے کھا رہی تھی، بروقت اقدامات سے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، حکومتی اتحادی جماعتوں کی ہمیں بھرپور حمایت حاصل ہے
آج ادارے ایک ہی کشتی کے سوار ہیں، 5؍ارب ڈالر کیلئے آرمی چیف اور ہم دوست ممالک کے پاس گئے 2029تک ملکی برآمدات 60ارب ڈالر تک لانا ہے ، شہباز شریف کی وفاقی کابینہ میں گفتگو
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا تو سرمایہ کاری آئے گی، یہ مشکل ضرور ہے ، لیکن ناممکن نہیں۔موجودہ حکومت کا ایک برس مکمل ہونے پر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج ہماری حکومت کا ایک سال مکمل ہوگیا ہے ، معیشت ایک سال پہلے ہچکولے کھا رہی تھی، ہم آئی ایم ایف سے گفتگو کر رہے تھے تو وہ کون تھا جو خطوط لکھ رہا تھا؟وزیراعظم نے کہا کہ بروقت اقدامات سے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔ حکومتی اتحادی جماعتوں کی ہمیں بھرپور حمایت حاصل ہے ، اتحادیوں کی حمایت سے مشکل ترین لمحات گزارے ہیں، میں بار بار کہتا ہوں یہ ٹیم ورک ہے ۔انکا یہ بھی کہنا تھا کہ آج ادارے ایک ہی کشتی کے سوار ہیں، 5؍ارب ڈالر کیلئے آرمی چیف اور ہم دوست ممالک کے پاس گئے ۔وزیراعظم نے کہا کہ آج مہنگائی 1.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ حکومت کا ایک شہباز شریف نے کہا کہ کا خاتمہ ایک سال رہے ہیں
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔