کراچی:

بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں امن کیلئے افغانستان، مقامی قبائل اور حکومت کو ساتھ بیٹھنا پڑے گا، افغانستان کے لوگوں کو پاکستان سے نکالنے سے دہشت گردی ختم نہیں ہوگی۔

توشہ خانہ 2 کیس سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں علیمہ خان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ 2 میں جھوٹے گواہ پیش کرکے وقت ضائع کیا جارہا ہے، جھوٹے گواہ کی سزا سات سال قید ہے، کمرہ عدالت میں میڈیا کے جو تین چار لوگ آتے ہیں انہیں بولنے کی اجازت ہی نہیں۔

علیمہ خان ںے کہا کہ بانی کو بچوں سے بات نہیں کرائی جاتی، بانی عمران خان نے کہا ہے کہ ان کا ملٹری ٹرائل چل رہا ہے۔

علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن کیلئے افغانستان، مقامی قبائل اور حکومت کو ساتھ بیٹھنا پڑے گا، افغانستان کے لوگوں کو پاکستان سے نکالنے سے دہشت گردی ختم نہیں ہوگی، افغانوں کو دھکے دے کر نکالا گیا یے، دہشت گردی کی وجہ سے ہمارے فوجی، پولیس والے اور عام لوگ مارے جارہے ہیں۔

علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے کہا کہ کے پی کے سارے ایم این ایز اور ایم پی ایز علی امین گنڈا پور کے ساتھ بیٹھیں، تحریک تحفظ آئین کے سربراہ محمود خان اچکزئی وفد کے ہمراہ افغانستان جائیں، وہ قانونی طریقے سے عدالتوں میں کیسز کا سامنا کرینگے، ہمارا میڈیٹ چوری کیا گیا پارٹی کو دبایا گیا۔

علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان نے پیغام دیا ہے کہ کامن ویلتھ رپورٹ میں بتایا گیا ہے پاکستان میں الیکشن چوری کیا گیا، پاکستان میں ووٹ چوری کی سزا آرٹیکل چھ ہے، 26ویں ترمیم کرکے عدلیہ کو اپنے ساتھ ملالیا، سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کی پریس کانفرنس ریکارڈ پر ہے، جو ججز سچ کے ساتھ کھڑے ہیں وہ قوم کے ہیرو ہیں، ملک میں عاصم لاء چل رہا ہے۔

علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے کہا کہ ایک شخص نے اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے پی ٹی آئی کو کرش کیا، کے پی میں امن قیام کرنا اور گورننس ٹھیک کرنا ضروری ہے، تمام ایم این ایز اور ایم پی ایز ان کی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بانی نے کہا ہے پشاور میں فوری جلسہ کریں سب کو بلائیں، یہ حکومت ناجائز حکومت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عمران خان نے کہا خان نے کہا کہ علیمہ خان

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار