ہم تمام اداروں کا احترام کرتے ہیں، کسی بھی ادارے کے ساتھ خلیج نہیں چاہتے، بیرسٹرگوہر
اشاعت کی تاریخ: 8th, March 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔08 مارچ 2025)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ ہم تمام اداروں کا احترام کرتے ہیں، کسی بھی ادارے کے ساتھ خلیج نہیں چاہتے،پاکستان تحریک انصاف کے رہنماوں کی ریاست مخالف سوشل میڈیا پوسٹس پربانی پی ٹی آئی عمران خان سے بات کروں گا،ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے کچھ سوشل میڈیا پوسٹس دکھائی ہیں۔
ان پوسٹس کے حوالے سے پارٹی اور بانی پی ٹی آئی عمران خان سے بات کروں گا۔جے آئی ٹی کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات پارٹی کے پلیٹ فارم پر ڈسکس کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کی جانب سے مجھے کچھ سوشل میڈیا پوسٹس دکھائی گئیں ہیں۔ سوشل میڈیا سے متعلق سوالات پر عمران خان سے بھی ڈسکس کریں گے ۔(جاری ہے)
ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں کسی سے خلیج نہیں چاہتے۔
ایک سوال کے جواب میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی اپنے سوشل میڈیا اکاو¿نٹ سے اداروں کے خلاف پوسٹ نہیں کی۔جے آئی ٹی میں مجھ سے ملاقات اور پوچھ گچھ خوشگوار ماحول میں ہوئی تھی۔ہمارے چیئرمین عمران احمد خان نیازی ہیں آج بھی ہیں اور کل بھی رہیں گے۔خیال رہے کہ اس سے قبل ریاست مخالف پروپیگنڈے کے الزام میں جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی )نے پی ٹی آئی کے 25 افراد کو دوبارہ 11 مارچ کو طلب کر لیا، جے آئی ٹی کی جانب سے جاری کئے گئے نوٹس میں ان تمام افراد کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اس معاملے پر اپنی پوزیشن کی وضاحت کریں۔جے آئی ٹی ان تمام افراد سے شواہد کی روشنی میں تحقیقات کر رہی ہے۔ ان افراد کیخلاف تحقیقات ریاست مخالف پروپیگنڈے کے حوالے سے کی جا رہی تھی۔قبل ازیں بھی جے آئی ٹی نے پی ٹی آئی کے 25 افراد کو طلب کیا تھا جن میں سے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر کے علاوہ روف حسن اور شاہ فرمان جی آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے۔جے آئی ٹی نے پی ٹی آئی کے رہنماوں سے پانچ گھنٹے تفتیش کی تھی۔ذرائع کے مطابق دوران تفتیش شاہ فرمان نے جے آئی ٹی کے سامنے نامناسب رویہ اختیار کیاتھا۔ جے آئی ٹی نے شاہ فرمان سے کچھ اضافی اور سخت سوالات بھی کئے تھے۔ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈہ کرنے کے الزام میں پاکستان تحریک انصاف کے15رہنماﺅں کو نوٹسز جاری کئے تھے۔پی ٹی آئی رہنماﺅں کو 7 مارچ کو دوپہر 12 بجے وفاقی حکومت کی جے آئی ٹی نے طلب کیا گیا تھا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جے آئی ٹی نے سوشل میڈیا پی ٹی آئی
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔